Asaghar Sahaba R.A or Akabar Tabiyeen

اصاغر صحابہؓ اور اکابر تابعین


یہ مرحلہ حضرت معاویہؓ کی امارت سے شروع ہوتا ہے اور بنو اُمیہ کی حکومت کے خاتمہ کے قریبی زمانہ تک کا احاطہ کرتا ہے، اس عہد میں بھی بنیادی طور پر اجتہاد و استنباط کا وہی منہج رہا جوصحابہ نے اختیار کیا تھاــــ اس عہد کی چند خصوصیات قابل ذکر ہیں

فقہا صحابہ کسی ایک شہر میں مقیم نہیں رہے
 بلکہ مختلف شہروں میں مختلف صحابہؓ کا ورود ہوا، وہاں لوگوں نے ان سے استفادہ کیا اور اس شہر میں ان کی آراء اور فتاویٰ کوقبولیت حاصل ہوئی، مدینہ میں حضرت عبد اللّه بن عمرؓ، مکہ میں حضرت عبداللّه بن عباسؓ اور ان کے تلامذہ مجاہد بن جبیرؒ، عطاء بن ابی رباحؒ، طاؤس بن کیسانؒ، کوفہ میں حضرت عبد اللّه بن مسعودؓ اور ان کے شاگردانِ باتوفیق، علقمہ، نخعیؒ، اسود بن یزیدؒ اور ابراہیم نخعیؒ، بصرہ میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ، حضرت حسن بصریؒ، حضرت انس بن مالکؓ اور ان کے شاگرد محمدبن سیرینؒ، شام میں حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت عبادہ بن صامتؓ اور ان صحابہؓ سے استفادہ کرنے والے تابعین، ابوادریس خولانیؒ؛ اسی طرح مصر میں حضرت عبد اللّه بن عمروبن العاصؓ اور ان کے بعد یزید بن حبیبؒ وغیرہ کے فتاویٰ کوبقول حاصل ہوا۔


اعلام الموقعین:1/21 اور اس کے بعد، فصل:الائمۃ الذین نشر والدین والفقہ







صحابہ اور فقہاِ تابعین کے مختلف شہروں میں مقیم ہونے کی وجہ سے فقہی مسائل میں اختلافات کی بھی کثرت ہوئی؛ کیونکہ ایک توخلافتِ راشدہ میں خاص کر حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت تک اہل علم یکجا تھے یاایک دوسرے سے قریب واقع تھے، اس کی وجہ سے بہت سے مسائل میں اتفاق رائے ہوجاتا تھا، اب عالم اسلام کا دائرہ وسیع ہوجانے، دراز شہروں میں مقیم ہونے اور ذرائع ابلاغ کے مفقود ہونے کی وجہ سے اجتماعی اجتہاد کی جگہ انفرادی اجتہاد کا غلبہ تھا، دوسرے مختلف شہروں کے حالات، رواجات، کاروباری طریقے اور لوگوں کے فکری وعملی رجحانات بھی مختلف تھے، اس اختلاف کا اثر مختلف شہروں میں بسنے والے فقہا کے نقطہ نظر پربھی پڑتا تھا؛ اس لیے بمقابلہ گذشتہ ادوار کے، اس دور میں اختلافِ رائے کی کثرت ملتی ہے۔

یوں تواکابرِ صحابہ میں بھی دونوں طرح کے فقہا پائے جاتے تھے، ایک وہ جن کی نگاہ حدیث کے ظاہری الفاظ پر ہوتی تھی، دوسرے وہ جو معانی حدیث کے غواص تھے اور احکامِ شرعیہ میں شریعت کی مصالح اور لوگوں کے احوال کوبھی پیشِ نظر رکھتے تھے، تابعین کے عہد میں یہ دونوں طریقہ اجتہاد اور ان کے طرزِ استنباط کا تفاوت زیادہ نمایاں ہو گیا، جولوگ ظاہر حدیث پرقانع تھے وہ "اصحاب الحدیث" کہلائے اور جونصوص اور ان کے مقاصد ومصالح کوسامنے رکھ کررائے قائم کرتے تھے وہ "اصحاب الرائے" کہلائے، اصحاب الحدیث کا مرکز مدینہ تھا اور اصحاب الرائے کا عراق اور خاص طور پرعراق کا شہرکوفہ، گومدینہ میں بعض ایسے اہل علم موجود تھے، جواصحاب الرائے کے طریقہ استنباط سے متاثر تھے، جیسے امام مالکؒ کے استاذ ربیعہ بن عبد الرحمنؒ، جواصحاب الرائے کے طرزِ استنباط میں ماہر ہونے سے "ربیعۃ الرائی" کہلائے اور "رائی" ان کے نام کا جزوٹھہرا؛ اسی طرح کوفہ میں امام عامرشراحیل شعبیؒ جوامام ابوحنیفہؒ کے اساتذہ میں ہیں؛ لیکن ان کا منہج اصحاب الحدیث کا تھا۔

اصحاب الرائی اور اصحاب الحدیث کے درمیان دواُمور میں نمایاں فرق تھا، ایک یہ کہ اصحاب الحدیث کسی حدیث کوقبول اور رد کرنے میں محض سند کی تحقیق کو کافی سمجھتے تھے اور خارجی وسائل سے کام نہیں لیتے تھے، اصحاب الرائے اُصولِ روایت کے ساتھ اُصولِ درایت کوبھی ملحوظ رکھتے تھے، وہ حدیث کوسند کے علاوہ اس طور پر بھی پرکھتے تھے کہ وہ قرآن کے مضمون سے ہم آہنگ ہے یااس سے متعارض؟ دین کے مسلمہ اُصول اور مقاصد کے موافق ہے یانہیں؟ دوسری مشہور حدیثوں سے متعارض تونہیں ہے؟ صحابہ کا اس حدیث پرعمل تھا یانہیں؟ اور نہیں تھا تو اس کے اسباب کیا ہو سکتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اصحاب الرائی کا منہج زیادہ درست بھی تھا اور دشوار بھی؛ دوسرا فرق یہ تھا کہ اصحاب الحدیث ان مسائل سے آگے نہیں بڑھتے تھے جوحدیث میں مذکور ہوں؛ یہاں تک کہ بعض اوقات کوئی مسئلہ پیش آجاتا اور ان سے اس سلسلہ میں رائے دریافت کی جاتی؛ اگرحدیث میں اس کا ذکر نہیں ہوتا تووہ جواب دینے سے انکار کرجاتے اور لوگ ان رہنمائی سے محروم رہتے، ایک صاحب سالم بن عبداللّه بن عمرؓ کے پاس آئے اور ایک مسئلہ دریافت کیا؛ انہوں نے نے کہا کہ میں نے اس سلسلہ میں کوئی حدیث نہیں سنی، استفسار کرنے والے نے کہا کہ آپ اپنی رائے بتائیں؛ انھوں نے انکار کیا، اس نے دوبارہ استفسار کیا اور کہا کہ میں آپ کی رائے پر راضی ہوں، سالم نے کہا کہ اگر اپنی رائے بتاؤں تو ہو سکتا ہے کہ تم چلے جاؤ اس کے بعد میری رائے بدل جائے اور میں تم کونہ پاؤں۔


(تاریخ الفقہ الاسلامی، للشیخ محمد علی السایس:77)


یہ واقعہ ایک طرف ان کے احتیاط کی دلیل ہے؛ لیکن سوال ہے کہ کیا ایسی احتیاط سے اُمت کی رہنمائی کا حق ادا ہو سکتا ہے؟ اصحاب الرائی نہ صرف یہ کہ جن مسائل میں نص موجود نہ ہوتی، ان میں مصالح شریعت کوسامنے رکھتے ہوئے اجتہاد کرتے؛ بلکہ جومسائل ابھی وجود میں نہیں آئے؛ لیکن ان کے واقع ہونے کا امکان ہے، ان کے بارے میں بھی پیشگی تیاری کے طور پرغور کرتے اور اپنی رائے کا اظہار کرتے، اسی کو "فقہ تقدیری" کہتے ہیں، اصحاب حدیث اصحاب الرائی کے اس طرزِ عمل پرطعنہ دیتے تھے؛ لیکن آج اسی فقہ تقدیری کا نتیجہ ہے کہ نئے مسائل کوحل کرنے میں قدیم ترین فقہی ذخیرہ سے مدد مل رہی ہے۔ اس وضاحت سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اصحاب الرائی کا کام بمقابلہ اصحاب الحدیث کے زیادہ دُشوار تھا؛ اسی لیے متقدمین کے یہاں "اصحاب الرائی" میں سے ہونا ایک قابل تعریف بات تھی اور مدح سمجھی جاتی تھی، بعد کوجن لوگوں نے اس حقیقت کونہیں سمجھا؛ انھوں نے رائے سے مراد ایسی رائے کوسمجھا جوقرآن وحدیث کے مقابلہ خودرائی پرمبنی ہو، یہ کھلی ہوئی غلط فہمی اور ناسمجھی ہے۔ حجاز کا اصحاب الحدیث کا مرکز بننا اور عراق کا اصحاب الرائی کا مرکز بننا کوئی اتفاقی امر نہیں تھا، اس کے چند بنیادی اسباب تھے، اوّل یہ کہ حجاز عرب تہذیب کا مرکز تھا، عرب اپنی سادہ زندگی کے لیے مشہور رہے ہیں، ان کی تہذیب میں بھی یہی سادگی رچی بسی تھی، عراق ہمیشہ سے دُنیا کی عظیم تہذیبوں کا مرکز رہا ہے اور زندگی میں تکلفات و تعیشات اس تہذیب کا جزو تھا پھرمسلمانوں کے زیر نگین آنے کے بعد یہ علاقہ عربی اور عجمی تہذیب کا سنگم بن گیا تھا اس لیے بمقابلہ حجاز کے یہاں مسائل زیادہ پیدا ہوتے تھے اور دین کے عمومی مقاصد و مصالح کوسامنے رکھ کراجتہاد سے کام لینا پڑتا تھا؛ یہاں کے فقہا اگر علمائے اصحاب حدیث کی طرح منصوص مسائل کے آگے سوچنے کوتیار ہی نہ ہوتے توآخر اُمت کی رہنمائی کا فرض کیوں کرادا ہوتا؟ دوسرے دبستانِ حجاز پرحضرت عبد اللّه  بن عمرؓ وغیرہ صحابہ کی چھاپ تھی، جن کا ذوق ظاہر نص پرقناعت کرنے کا تھا اور عراق کے استاذ اول حضرت علیؓ، حضرت عبد اللّه بن مسعودؓ جیسے فقہا تھے، جن پراصحاب الرائی کے طریقہ اجتہاد کا غلبہ تھا، اس لیے دونوں جگہ بعد کے علما پران صحابہ کے اندرازِ فکر کی چھاپ گھری ہوتی چلی گئی۔ تیسرے اکثر فرقِ باطلہ کا مرکز عراق ہی تھا، یہ لوگ اپنی فکر کی اشاعت کے لیے حدیثیں وضع کیا کرتے تھے، اس لیے علماِء عراق تحقیق حدیث میں اُصول روایت کے ساتھ ساتھ اُصولِ درایت سے کام لیتے تھے، اس کے برخلاف علما حجاز کووضع حدیث کے اس فنتہ سے نسبتاً کم سابقہ تھا۔

اسی دور میں فرقِ باطلہ کا ظہور ہوا اور سیاسی اختلاف نے آہستہ آہستہ مذہبی رنگ اختیار کر لیا، ایک طرف شیعانِ علی تھے جو اہل بیت کوہی خلافت کا مستحق جانتے تھے اور چند صحابہ کوچھوڑ کر تمام ہی صحابہ کی تکفیر کیا کرتے تھے، دوسری طرف ناصبیہ تھے، جواہل بیت پربنواُمیہ کے ظلم وجورکوسند جواز عطا کرتے تھے اور حضرت علیؓ اور اہلِ بیت کوبرا بھلا کہنے سے بھی نہیں چوکتے تھے؛ تاہم ناصبیہ کی تعداد بہت کم تھی اور انھیں کبھی کسی طبقہ میں قبول حاصل نہیں ہوا، تیسرا گروہ خوارج کا تھا، جوحضرت عثمان غنیؓ، حضرت علیؓ، حضرت معاویہؓ اور بعد کے تمام صحابہ کوقرار دیتا تھا، شیعہ اور خوارج کا مرکز عراق اور مشرق کا علاقہ تھا حالانکہ اس اختلاف کی بنیاد سیاسی تھی ؛ لیکن چونکہ لوگوں کے ذہن پرمذہب کی گرفت بہت مضبوط تھی، اس لیے جلد ہی اس اختلاف نے عقیدہ کی صورت اختیار کرلی اور اس کوتقویت پہنچانے کے لیے لوگوں نے روایتیں گھڑنی شروع کر دیں؛ پس اسی دور سے وضع حدیث کا فتنہ بھی شروع ہوا۔
عہد صحابہ میں اکثرلوگ وہ تھے جنہوں نے حضور ﷺ کے عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس لیے روایت حدیث کی ضرورت کم پیش آتی تھی، اب چونکہ زیادہ ترصحابہ رخصت ہو چکے تھے اور دوسری طرف فرقۂ باطلہ کے نمائندوں نے اپنی طرف سے حدیثیں گھڑنی شروع کر دی تھیں، اس لیے روایتِ حدیث کے سلسلہ میں بمقابلہ گذشتہ دورکے اضافہ ہو گیا۔

البتہ اس دور میں حدیث یافقہ کی باضابطہ تدوین عمل میں نہ آئی، حضرت عمربن عبد العزیزؒ نے اس سلسلہ میں کوشش توکی اور گورنرمدینہ ابوبکر محمدبن عمروبن حزم کواس کام کی طرف متوجہ کیا لیکن اس سے پہلے کہ ابن حزم اس خواب کوشرمندہ تعبیر کرتے، خود حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللّه  کی وفات ہو گئی۔


اس دور کے اہم فقہا و ارباب افتاء کے نام اس طرح ہیں


مدینہ:اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت عبد اللّه بن عمرؓ، حضرت ابوہریرہؓ، سعید بن مسیبؓ، عروہ بن زبیر، ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام، امام زین العابدین علی بن حسین، عبد اللّه بن مسعود، سالم بن عبد اللّه بن عمر، سلیمان بن یسار، قاسم بن محمدبن ابوبکر، نافع مولیٰ عبد اللّه بن عمر، محمد بن مسلم ابن شہاب زہری، امام ابوجعفر محمد باقر، ابوالزناد عبد اللّه بن ذکوان، یحییٰ بن سعید انصاری، ربیعۃ الرائے رضی اللّه عنہم اجمعین۔

 مکہ:حضرت عبد اللّه بن عباس، امام مجاہد، عکرمہ، عطاء بن ابی رباح۔ کوفہ:علقمہ، نخعی، مسروق
عبیدۃ بن عمروسلمانی، اسود بن یزید نخعی، قاضی شریح ابراہیم نخعی، سعید بن جبیر، عامر بن شراحیل شعبی رحمہم اللّه ۔ 

بصرہ:حضرت انس بن مالک انصاریؓ، ابوالعالیہ، رفیع بن مہران، حسن بن ابی الحسن یسار، ابوالثعثاء، جابر بن زید، محمدبن سیرین، قتادہ رحمہم اللّه ۔ 

شام: عبد الرحمن بن غانم، ابوادریس خولانی، مکحول
 قبیصہ بن ذویب، رجاء بن حیوٰہ، حضرت عمربن عبد العزیز رحمہم اللّه ۔ مصر:حضرت عبد اللّه بن عمرو بن العاصؓ، مرثد بن عبد اللّه بن البزی، یزید بن ابی حبیب رحمہم اللّه ۔

 یمنل:طاؤس بن کیسان، وہب بن منبہ صنعانی، یحییٰ بن ابی کثیر۔ 


چوتھا مرحلہ اوائل دوسری صدی تا نصف چوتھی صدی تدوین فقہ کا چوتھا مرحلہ جوعباسی دور کی ابتدا سے شروع ہو کر چوتھی صدی ہجری کے وسط تک محیط ہے، نہایت اہم ہے اور اسے نہ صرف فقہ اسلامی بلکہ تمام ہی اسلامی و عربی علوم و فنون کا سنہرا دور کہہ سکتے ہیں، فقہ اور فقہ سے متعلق جو علوم ہیں ان کے علاوہ اسی عہد میں تفسیر قرآن کے فن کو کمال حاصل ہوا اور تفسیر طبری جیسی عظیم الشان تفسیر وجود میں آئی، جوآج تک کتبِ تفسیر کا نہایت اہم مرجع ہے؛ اسی عہد میں عربی زبان کے قواعد مرتب ہوئے؛ اسی دور میں عباسی خلفاء کی خواہش پریونانی علوم، منطق اور فلسفہ وغیرہ عربی زبان میں منتقل کیا گیا اور اس کوبنیاد بناکر مسلمان محققین نے بڑے بڑے سائنسی کارنامے انجام دیے اور علم وتحقیق کی دنیا میں اپنی فتح مندی کے عٙلم نصب کیے اور فقہ کے لیے تو یہ دور نہایت ہی اہم ہے۔

213 comments / Replies

  1. اصاغر صحابہؓ اور اکابر تابعین
    کا مرحلہ حضرت معاویہؓ کی امارت سے شروع ہوتا ہے اور ......... کے قریبی زمانہ تک کا احاطہ کرتا ہے،

    ReplyDelete
    Replies
    1. بنو امیہ کی حکومت کے خاتمہ

      Delete
    2. بنواومیہ کی حکومت کےخاتمہ

      Delete
    3. بنو امیہ کی حکومت کے خاتمہ

      Delete
    4. بنو اُمیہ کی حکومت کے خاتمہ

      Delete
    5. بنو امیہ کی حکومت کے خا تمہ

      Delete
    6. بنو امیہ کی حکومت کے خاتمہ

      Delete
    7. بنو امیہ کی حکومت کے خاتمہ تک

      Delete
    8. بنو امیہ کی حکومت کا خاتمہ

      Delete
    9. بنو امیہ کی حکومت کے خاتمے تک

      Delete
  2. اس عہد میں بھی بنیادی طور پر ....... کا وہی منہج رہا جوصحابہ نے اختیار کیا تھاــــ

    ReplyDelete
  3. صحابہ اور فقہاِ تابعین کے مختلف شہروں میں مقیم ہونے کی وجہ سے فقہی مسائل میں ........ کی بھی کثرت ہوئی؛

    ReplyDelete
  4. ...... کی شہادت تک اہل علم یکجا تھے یاایک دوسرے سے قریب واقع تھے،

    ReplyDelete
    Replies
    1. حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ

      Delete
    2. حضرت عثمان غنی رضى الله

      Delete
    3. حضرت عثمان رضی اللہ عنہ

      Delete
    4. حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ

      Delete
    5. حضرت عثمان غنی رضی اللہ

      Delete

    6. حضرت عثمان غنی رضی اللہ

      Delete
    7. حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہا

      Delete
  5. بمقابلہ گذشتہ ادوار کے، اس دور میں...... کی کثرت ملتی ہے۔

    ReplyDelete
  6. جولوگ ظاہر حدیث پرقانع تھے وہ ...... کہلائے

    ReplyDelete
  7. جونصوص اور ان کے مقاصد ومصالح کوسامنے رکھ کررائے قائم کرتے تھے وہ "........" کہلائے،

    ReplyDelete
  8. اصحاب الحدیث کا مرکز ... تھا

    ReplyDelete
  9. اصحاب الرائے کا مرکز.....تھاق

    ReplyDelete
  10. امام مالکؒ کے استاذ ربیعہ بن عبد الرحمنؒ، جواصحاب الرائے کے طرزِ استنباط میں ماہر ہونے سے "......." کہلائے

    ReplyDelete
  11. کوفہ میں امام عامرشراحیل شعبیؒ جوامام ابوحنیفہؒ کے اساتذہ میں ہیں؛ لیکن ان کا منہج .... کا تھا۔

    ReplyDelete
  12. اصحاب الحدیث کسی حدیث کوقبول اور رد کرنے میں محض ...... کو کافی سمجھتے تھے اور خارجی وسائل سے کام نہیں لیتے تھے،

    ReplyDelete
  13. اصحاب الرائے ...... کے ساتھ اُصولِ درایت کوبھی ملحوظ رکھتے تھے،

    ReplyDelete
  14. اصحاب الرائی جومسائل ابھی وجود میں نہیں آئے؛ لیکن ان کے واقع ہونے کا امکان ہے، ان کے بارے میں بھی پیشگی تیاری کے طور پرغور کرتے اور اپنی رائے کا اظہار کرتے، اسی کو "......" کہتے ہیں

    ReplyDelete
  15. اصحاب الرائی کا کام بمقابلہ اصحاب الحدیث کے زیادہ ...... تھا؛

    ReplyDelete
  16. حجاز ..... تہذیب کا مرکز تھا،

    ReplyDelete
  17. رمسلمانوں کے زیر نگین آنے کے بعد یہ عراق عربی اور .... تہذیب کا سنگم بن گیا تھا

    ReplyDelete
  18. اسی دور میں .....کا ظہور ہوا

    ReplyDelete
  19. طرف شیعانِ علی تھے جو ..... کوہی خلافت کا مستحق جانتے تھے اور چند صحابہ کوچھوڑ کر تمام ہی صحابہ کی تکفیر کیا کرتے تھے،

    ReplyDelete
  20. دوسری طرف ..... تھے، جواہل بیت پربنواُمیہ کے ظلم وجورکوسند جواز عطا کرتے تھے اور حضرت علیؓ اور اہلِ بیت کوبرا بھلا کہنے سے بھی نہیں چوکتے تھے؛

    ReplyDelete
  21. تیسرا گروہ ..... کا
    تھا،

    ReplyDelete
  22. ، شیعہ اور خوارج کا مرکز عراق اور...... تھا

    ReplyDelete
  23. حدیث کی باظابطہ تدوین کے سلسلے میں.... نے کوشش کی

    ReplyDelete
  24. فقہ کا چوتھا مرحلہ جوعباسی دور کی ابتدا سے شروع ہو کر ...... کے وسط تک محیط ہے،

    ReplyDelete
  25. ..... جیسی عظیم الشان تفسیر وجود میی آئی، جوآج تک کتبِ تفسیر کا نہایت اہم مرجع ہے؛

    ReplyDelete
  26. اسی دور میں .... کی خواہش پریونانی علوم، منطق اور فلسفہ وغیرہ عربی زبان میں منتقل کیا گیا اور اس کوبنیاد بناکر مسلمان محققین نے بڑے بڑے سائنسی کارنامے انجام دیے

    ReplyDelete
  27. اصحاب الرایئ اور اصحاب الحدیث کے درمیان ۔۔۔۔ میں نمایاں فرق تھا

    ReplyDelete

Powered by Blogger.