Haiz Nifas or Istahaza ka bayan

حیض نفاس اور استحاضہ کا بیان



سوال : حیض کیا ہے؟

جواب : اللّه تعالی نے بنو آدم کی بچیوں پر طبعی طور پر لازم کردیا ہے کہ انکے رحموں سے خون بہے اور اکثر خواتین کے رحم ہر ماہ یہ خون پھینکتے ہیں اور اس سیلان کا نام "حیض" رکھاجاتا ہےجیسا کہ اسکی ضد کا نام "طھر"رکھا جاتا ہے۔


سوال : کیا سفید شریعت میں (حیض و طھر) کے احکام ہیں ؟

جواب : جی ہاں ! ان کے احکام ہیں (جو) فقہ کی کتابوں میں ذکر کیے گئے ہیں۔



سوال : جب عورت کو حیض آئے تو کونسا حکم اسکے متعلق ہوتا ہے؟

جواب : پانچ احکام (حیض) کے متعلق ہیں

 اول : (حیض والی خاتون) کیلئے جائز نہیں کہ وہ حیض کے دنوں میں نماز پڑھے یا روزہ رکھے نہ فرض اور نہ نفل۔

دوم : اس کیلئے جائز نہیں کہ وہ مسجد میں داخل ہو یا بیت اللّه کا طواف کرے۔

سوم : قرآن پاک کی قراءت کرنا اس کیلئے جائز نہیں۔

چہارم : جدا غلاف کے بغیر مصحف یعنی قرآن کریم کو چھونا اس کیلئے جائز نہیں۔

پنجم : اس کا شوہر اس سے صحبت نہ کرے۔





سوال : پس جب حائضہ پاک ہوجائے تو کیا نماز اور روزہ قضا کرنا اس پر فرض ہے؟

جواب : وہ بالکل نماز کی قضا نہ کرے کیونکہ (نماز) اس کے ذمہ سے قضا کے بغیر ساقط ہے بہرحال رمضان شریف کے روزے پس انکی قضا اس پر لازم ہے جب وہ پاک ہوجائے۔



سوال : کیا قلت اور کثرت کی حیثیت سے حیض کی مدت (مقرر) ہے؟

جواب : جی ہاں! حیض کی اقل
(یعنی کم سے کم مدت )
تین دن اور تین راتیں ہیں اور اسکی اکثر مدت دس دن اور دس راتیں ہیں ۔



سوال : حائضہ جو خون دیکھتی ہے کیا اس کا خاص رنگ ہے؟

جواب : حائضہ حیض کے دنوں میں جو سرخی, زردی اور مٹیالا رنگ دیکھے تو وہ حیض ہے یہاں تک کہ وہ خالص سفیدی دیکھے
(کہ وہ حیض نہیں )



سوال : جب حائضہ کا خون بند ہو جائے اور وہ خالص سفیدی دیکھ لے(تو)کب اس سے صحبت کرنا جائز ہے؟

جواب : جب دس دن سے کم پر حیض کا خون بند ہو جائے تو اس سے صحبت کرنا جائز نہیں یہاں تک کہ وہ غسل کر لے یا اس پر کامل نماز کا وقت گزر جائے اور اگر اس کا خون دس دن پر بند ہو تو (عورت) کے غسل کرنے سے پہلے اس سے صحبت کرنا جائز ہے



سوال : جب دو خونوں کے درمیان مُتَخَلّل ہو تو وہ (طہر) حیض کے حکم میں ہے یا طہارت
(کے حکم میں ہے ؟)

جواب : طہر جب مدت حیض میں دو خونوں کے درمیان متخلل ہو تو وہ جاری خون کی طرح ہے اور اس پر حیض کے تمام احکام جاری ہوں گے



سوال : کیا اقل اور اکثر کی حیثیت سے طہر کی مدت (مقرر) ہے؟

جواب : طہر کی اقل(یعنی کم ازکم مدت) پندرہ دن ہے(اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حیض کا خون دس دن پر بند ہو پھر وپ پندرہ دن سے پہلے خون دیکھے تو وہ حیض نہیں ہو گا کیونکہ طہر فاصل کی مدت اس کے بعد نہیں گزری) اور (طہر) کی اکثر(مدت) کی کوئی حد نہیں(پس اگر اس کا طہر کئی برس دراز رہا اور اسے حیض نہ آیا تو وہ ہمیشہ پاک رہے گی یہاں تک کہ حیض کا خون دیکھ لے



سوال : نفاس کیا ہے؟

جواب : وہ ولادت کے بعد عورت کے رحم سے نکلنے والا خون ہے



سوال : اس کی مدت کتنی ہے؟

جواب : اس کی اکثر (مدت) چالیس دن ہے اور اس کی اقل (مدت) کی کوئی حد نہیں



سوال : کون سا حکم نفاس کے متعلق ہوتا ہے؟

جواب : اس کے احکام حیض کے احکام کی طرح ہیں   یہ(یعنی نفاس) نماز پڑھنے, روزہ رکھنے, صحبت کرنے, مسجد میں داخل ہونے,(بیت اللّه کا) طواف کرنے, قرآن مجید کی قرأت کرنے اور جدا غلاف کے بغیر اس کو چھونے سے منع کرتا ہے اور (نفاس والی خاتون) رمضان شریف کے روزے کی قضا کرے اور نمازوں کی قضا نہ کرے جیسا کہ ہم نے اس کو حیض کے احکام میں ذکر کر دیا ہے



سوال : جب(عورت)نے ایک پیٹ(یعنی ایک حمل) سے دو بچے جنے تو ان دونوں میں سے کس سے نفاس شروع ہوتا ہے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه اور حضرت یوسف رحمہ اللّه کے نزدیک (عورت)  کے نفاس کی ابتداء پہلے بچے سے ہوتی ہے اور حضرت محمد اور حضرت زفر رحمہ اللّه فرماتے ہیں کہ (نفاس) کی ابتداء دوسرے بچے سے ہوتی ہے 



سوال : جب عورت کا پیٹ چاک کیا جائے اور اس سے بچہ نکالا جائے تو کیا (عورت) اس (عمل) سے زچہ ہو جاتی ہے اور کیا اس (عمل) پر نفاس کے احکام جاری ہوتے ہیں؟

جواب : اگر خون (عورت) کے رحم سے معتاد راستہ سے بہا تو وہ زچہ ہو جائے گی اور اس پر نفاس کے احکام جاری ہوں گے اور اگر اس کے رحم سے خون نہیں بہا تو یہ (عمل) تمام زخموں کی طرح زخم کے حکم میں ہو گا



سوال : جب (عورت) نے معتاد طریقہ پر بچہ جنا اور خون رحم سے نہیں بہا (تو) کیا اس ولادت کی وجہ سے نفاس کا حکم لگایا جائے گا؟

جواب : جی ہاں! وہ زچہ ہے. اس پر غسل واجب ہو گا اور وہ انتظار کے بغیر روزہ رکھے اور نماز پڑھے



سوال : سقط(یعنی قبل از وقت گرنے والے نا تمام بچے) کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ کیا عورت اس سے زچہ ہو جاتی ہے؟

جواب : جی ہاں!  (عورت) اس سے زچہ ہو جاتی ہے جبکہ اس کا بعض عضو ظاہر ہو چکا ہو مثلاً ہاتھ یا پاؤں یا انگلی یا ناخن یا بال. اور اگر اعضاء میں سے کچھ ظاہر نہ ہوا ہو تو وہ رحم سے بہنے والے خون کی طرح ہے. پس اگر وہ (خون) دن اور تین راتیں رہا اور اس سے پہلے مکمل طہر گزر چکا ہو تو وہ حیض ہے وگرنہ وہ استحاضہ ہے 


سوال : نفاس کے دنوں میں طہر متخلل کے بارے میں آپ کا قول کیا ہے؟

جواب : چالیس دن کے اندر دو خونوں کے درمیان طہر متخلل نفاس ہے



سوال : استحاضہ کیا ہے؟

جواب : یہ چند صورتوں پر (مبنی) ہے

 اگر (عورت) نے خون دیکھا اور تین دن سے کم پر بند ہو گیا تو وہ استحاضہ ہے

اور جو (خون عورت) کی عادت سے زائد ہو گیا اور دس(دن) سے تجاوز کر گیا تو تمام (خون یعنی عادت کے بعد والا) استحاضہ ہے
  جب (عورت)  پہلی مرتبہ خون دیکھے اور وہ (خون) دراز ہو جائے یہاں تک کہ دس دن سے زائد ہو جائے تو دس دن حیض میں شمار ہوں گے اور جو زائد ہو گا وہ استحاضہ ہے پس اگر مبتدأہ کا یہ جاری خون کئی سال باقی رہا تو اس کا حیض ہر ماہ میں دس دن ہے اور باقی (خون) استحاضہ ہے

 وہ خون جو حاملہ اپنے حمک کے ایام میں دیکھے استحاضہ ہے

 حاملہ ولادت کی حالت میں بچہ کے نکلنے سے پہلے جو خون دیکھے وہ استحاضہ ہے

 جب نفاس میں عورت کی معروف عادت ہو اور خون چالیس دن سے زائد ہو جائے تو جو (خون) عادت سے زائد ہو گیا تو وہ استحاضہ ہے

 اور اگر (عورت) نے پہلی مرتبہ بچہ جنا پس اسکا خون دائمی ہو گیا اور چالیس دن سے متجاوز ہو گیا تو چالیس دن (کا خون) نفاس ہے اور جو زائد ہو گیا تو وہ استحاضہ ہے
  جب حمل گر جائے اور (ابھی تک)  عضو میں سے کچھ ظاہر نہ ہوا اور اس کو حیض بنانا ممکن نہ ہو تو وہ استحاضہ ہے



سوال : مستحاضہ کے احکام کیا ہیں؟

جواب : (مستحاضہ) قرآن پاک کی تلاوت کرنے, مسجد میں داخل ہونے, فرض و نفل روزہ رکھنے اور اپنے شوہر کے چھا جانے (یعنی صحبت کرنے) میں پاک خواتین کی طرح ہے لیکن جب وہ کوئی وقت نہ پائے مگر اس حال میں کہ اس کا خون بہ رہا ہو تو وہ معذور کے حکم میں ہے پس وہ ہر (فرض) نماز کے وقت وضو کرے اور اس (وضوء)  سے نماز پڑھے جو فرض یا نفل وہ چاہے اور اس کا وضو وقت نکلنے سے ٹوٹ جائے گا اور جب وہ وضو کر چکے تو اس کے لیئے نماز پڑھنا, بیت اللّه کا طواف کرنا اور قرآن پاک کو چھونا جائز ہے

231 comments / Replies

  1. خون کے ماہانہ سیلان کا نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رکھا جاتا ہے۔

    ReplyDelete
  2. حیض کے متعلق۔۔۔۔۔۔احکام۔ہیں

    ReplyDelete
  3. حیض والی خاتون کیلئے جائز نہیں کہ وہ حیض کے دنوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پڑھے یا ۔۔۔۔۔۔۔۔ رکھے

    ReplyDelete
  4. حائضہ کے لیے بیت اللہ کا طواف۔۔۔۔۔۔نہیں

    ReplyDelete

  5. ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے بغیر مصحف یعنی قرآن کریم کو چھونا اس کیلئے جائز نہیں

    ReplyDelete
  6. اس کا شوہر اس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کرے

    ReplyDelete
  7. رمضان کے روزوں کی قضا حائضہ پر۔۔۔۔۔۔۔ہے

    ReplyDelete
  8. حیض کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مدت کیا ہے

    ReplyDelete
    Replies
    1. تین دن تین راتیں
      دس دن دس راتیں

      Delete
    2. تین دن تین راتیں
      دس دن دس راتیں

      Delete
    3. تین دن تین راتیں
      دس دن دس راتیں

      Delete
    4. تین دن تین راتیں
      دس دن دس راتیں

      Delete
    5. تین دن تین راتیں
      دس دن دس راتیں

      Delete
    6. تین دن تین راتیں
      دس دن دس راتیں

      Delete
    7. تین دن تین راتیں دس دن دس راتیں

      Delete
    8. تین دن تین راتیں
      دس دن دس راتیں


      Delete
    9. تین دن تین راتیں کم سے کم

      زیادہ سے زیادہ دس دن دس راتیں

      Delete
    10. تين دن تين راتيں
      دس دن دس راتيں

      Delete
  9. حائضہ حیض کے دنوں میں جو سرخی, زردی اور ۔۔۔۔۔۔ رنگ دیکھے تو وہ حیض ہے

    ReplyDelete

  10. طہر جب مدت حیض میں دو خونوں کے درمیان۔۔۔۔۔۔۔ ہو تو وہ جاری خون کی طرح ہے اور اس پر حیض کے تمام احکام جاری ہوں گے

    ReplyDelete

  11. طہر کی اقل(یعنی کم ازکم مدت) ۔۔۔۔۔۔۔ دن ہے

    ReplyDelete
  12. ولادت کے بعد عورت کے رحم سے نکلنے والا خون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے

    ReplyDelete

  13. نفاس کی اکثر (مدت) ۔۔۔۔۔ دن ہے اور اس کی اقل (مدت) کی کوئی حد نہیں

    ReplyDelete
  14. نفاس والی عورت رمضان کے روزوں کی ۔۔۔۔۔۔۔کرے

    ReplyDelete
  15. اگر (عورت) نے خون دیکھا اور تین دن سے کم پر بند ہو گیا تو وہ ۔۔۔۔۔۔۔ہے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.