Ilm-E-Hadees

علم حدیث



تعریف علم حدیث


حدیث کا لغوی  معنی ہے بات, ذکر, خبر.عند العرب حدیث کا مطلب وہی ہے جو ہمارے ہاں (اردو میں) مراد ہوتا ہے گفتگو, کلام, بات:تو لفظ حدیث کا لغوی معنی ہوا کلام اور بات


حدیث کی اصطلاحی تعریف 


اقوال الرسول صلی اللّٰه علیہ وسلم وافعاله واحواله 

 اصطلاح میں حدیث مطلق بات کو نہیں بلکہ رسول اکرم صلی اللّٰه علیہ وسلم کے اقوال, اعمال, احوال, تقریرات کو کہتے ہیں. حاصل یہ ہوا کہ حدیث حضور صلی اللّٰه علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی بات اور آپ کے جسد اطہر سے صادر شدہ اعمال اور وہ عمل جو آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم کے سامنے ہوا اور آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم نے نکیر نہ فرمائی ہو عرف میں اس کو حدیث کہتے ہیں

اصطلاحی تعریف


اب یہاں دو علم ہیں

علم اصول حدیث

علم حدیث


اور دونوں کی تعریف جدا جدا ہے


علم اصول حدیث


علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللّٰه متوفی911ھ نے الفیۃ الحدیث میں یوں تعریف کی ہے

ّعلم الحدیث ذو قوانین تُحٙد

یُدری بھا احوال متن و سند



علم حدیث کی تعریف ایسے قوائد سے کی گئی ہے 
کہ جس کے ذریعہ سے متن وّ سند کی پہچان ہو


علامہ زرقانی رحمۃ اللّٰه اور شیخ عز الدین ابن جماعۃرحمۃ اللّٰه نے علم اصول حدیث کی تعریف اس طرح کی ہے

ھو علم بقوانین یُعرٙف بہ اقوال الرسول وافعالہ واحوالہ,من صِحّّٙتہ وحسن

علم اصول حدیث ایسے قواعد کا جاننا ہے کہ جن سے نبی صلی اللّٰه علیہ وسلم کے قول فعل واحوال کی صحت وحسن معلوم ہو


علم حدیث کی تعریف

علامہ  عینی رحمتہ اللّه متوفی ٨٠٠ھ اور شیخ کرمانی رحمہ اللّٰه متوفی ٧٨٦ھ نے علم حدیث کی یہ تعریف کی ہے

ھو علم یعرف بہ اقوال الرسول صلی اللّٰه علیہ وسلم و افعالہ و احوالہ و تقریراتہ

علم حدیث وہ ایسا علم ہے جس نے نبی صلی اللّٰه علیہ وسلم کے اقوال طیبہ, افعال کریمہ, احوال حسنہ اور تقریرات مواظبۃ معلوم ہوں





حدیث کا موضوع


شیخ کرمانی رحمہ اللّٰه نے علم حدیث کا موضوع بیان کیا ہے

ذات الرسول صلی اللّٰه علیہ وسلم من حیث انه نبی

حدیث کا موضوع (زیر بحث آنے والی چیز)آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وسلم کی ذات ہے بحیثیت نبی,آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم کی نبوی زندگی سے بحث علم حدیث کا موضوع ہے کہ حضور صلی اللّٰه علیہ وسلم نے کیا فرمایا, کیسے کھایا, کیا پہنا, اپنوں پرایوں سے کیا سلوک کیا, خوشی,غمی,جنگ وامن میں اور امیر وگدا, احباب و اعداء سے کس طرح معاملہ فرمایا اور کیا حکم دیا

سوال

 علامہ کافیجی رحمتہ اللّٰه نے اس موضوع پر اعتراض کیا ہے کہ ذات الرسول صلی اللّٰه علیہ وسلم علم طب کا موضوع ہے جس میں بدن کی صحت و سقم سے بحث ہوتی ہے مجھے تعجب ہے کہ علم حدیث کا موضوع ذات الرسول صلی اللّٰه علیہ وسلم کیسے ہو سکتا ہے جو فی الحقیقۃ علم طب کا موضوع ہے.

جواب

 حافظ ابن حجر رحمۃ اللّٰه اس کا جواب دیتے ہیں کہ میں علامہ کافیجی رحمہ اللّٰه کی بات پر متحیر ہوں کہ اتنی سادہ سی بات کا ادراک نہ کرسکے اور موضوع پر اعتراض کر دیا حالانکہ موضوع میں
من حیث انه نبی
 قید موجود ہے کہ ذات الرسول بدن انسانی کی وجہ سے علم حدیث کا موضوع نہیں بلکہ بحیثیت نبی و رسول علم حدیث کا موضوع ہیں, علم طب کا موضوع محض بدن انسانی ہوتا ہے, نہ کہ بحیثیت پیغمبر و رسول.علم حدیث اور علم طب کا موضوع دو الگ چیزیں ہیں. یہ موضوع مطلق علم حدیث کا ہے



غرض و غایت کی تعریف 


غرض اس قصد و ارادہ کو کہتے ہیں جس کے حاصل کرنے کے لیئے کوئی فعل کیا جائے, غایت وہ نتیجہ ہے جو اس فعل پر حاصل ہو. مثلا کتاب خریدنا بازار جانے کے لیئے غرض ہے اور کتاب خرید لینا غایت ہے تو غرض وغایت دونوں مصداق کے اعتبار سے ایک ہیں صرف ابتداء اور انتہا کا فرق ہے

علم حدیث کی غرض وغایت 

علم روایت الحدیث کی غرض 
معرفۃ الصحیح عن غیرہ" ہے"

الاھتداء بھدی النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم

علامہ کرمانی رحمۃ اللّٰه کہتے ہیں حدیث کی غرض و غایت " الفوز بسعادۃ الدارین " ہے

اللّه اور اس کے رسول صلی اللّٰه علیہ وسلم کے احکامات و مرضیات کو معلوم کرنا اور ان پر عمل کرتے ہوئے ان کو راضی کرنا علم حدیث کی غرض و غایت اور مقصود ہے.علمی و عملی زندگی کے پیش نظر رہے کہ ہم اس میں کس حد تک کامیاب ہو رہے ہیں

113 comments / Replies

  1. حدیث کا لغوی معنی ہے____________

    ReplyDelete
  2. لفظ _______ کا لغوی معنی ہوا کلام اور بات

    ReplyDelete
  3. علم حصول حدیث
    علم حدیث

    ReplyDelete
  4. علم حدیث کی تعریف ایسے_________ سے کی گئی ہے جس کے ذریعے سے________ کی پہچان ہو

    ReplyDelete
  5. علم اصول حدیث ایسے حدیث ایسے قواعد کا جاننا ہے جس نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کے__________کی_________ معلوم ہو

    ReplyDelete
  6. علم حدیث ایسا علم ہے جس نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کے__________ معلوم ہوں

    ReplyDelete
    Replies
    1. اقوال طیبہ، افعال کریمہ، احوال حسنہ اور تقریرات مواظبة

      Delete

    2. اقوال طیبہ افہال کریمہ
      احوال حسنیٰ تقریرات مواظبت

      Delete
    3. اقوال طیبہ افعال کریمہ احوال حسنہ تقر یر ات مواظبت

      Delete
    4. اقوال طیبہ افعال کریمہ احوال حسنہ تقریرات مواظبت

      Delete
    5. اقوال طیبہ, افعال کریمہ, احوال حسنہ اور تقریرات مواظبۃ

      Delete
  7. حدیث کا موضوع آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم کی__________ ہے بحیثیت نبی۔

    ReplyDelete
  8. آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم کی نبوی زندگی سے_____________ حدیث کا موضوع ہے

    ReplyDelete
  9. علم حدیث اور__________ کا موضوع دو الگ چیزیں ہیں

    ReplyDelete
  10. غرض اس _______ کو کہتے ہیں جسے حاصل کرنے کے لیے کوئ فعل کیا جاۓ

    ReplyDelete
  11. غایت وہ ________ ہے جو اس فعل پر حاصل ہو

    ReplyDelete
  12. علامہ کرمانی رحمتہ اللّٰه کہتے ہیں حدیث کی غرض و غایت_________ ہے

    ReplyDelete
  13. اللّٰه اور اسکے رسول صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کے___________ معلوم کرنا اور پھر ان پر عمل کر کے انہیں راضی کرنا علم حدیث کی___________ اور مقصود ہے

    ReplyDelete
    Replies

    1. راضی کرنا
      احکام اور مرضیا ت

      Delete
    2. راضی کر نا
      احکا م اور مرضیا ت

      Delete
    3. احکام ع مرضیات
      غرض و غایت

      Delete
    4. احکام و مرضیات غرض و غایت

      Delete
    5. 21, 2019 at 6:32 PM
      احکام ع مرضیات
      غرض و غایت

      Delete
  14. وما علینا الاالبلاغ المبین

    ReplyDelete

Powered by Blogger.