Ilam Ul Tajveed

عِلمُ التّجوید کا لغوی معنی


اَلاتیَان بِالجَیّدِ 


(ستھرا کرنا ،کھرا کرنا ،عمدہ کرنا حرُوف کو )


علم التّجوید کا اِصطلاحی معنی 



اَلتَّجوِیدُ عِبَارَة اِخرَاجُ کُلّ حَرُفٍ مّن مَّخرَجِہ وَ اِعطَا ُٕ حَقّہ مِنَ الصّفَاتِ مُکَمَّلاً  

علم التّجوید کی غرض و غایت و فائدہ


 علم التّجوید کی غرض و غایت یہ ہے کہ قرآن مجید کو صحیح طور پہ پڑھنا آجائے اور فائدہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہو ۔

عِلمُ التّجوید کا موضُوع


علم التّجوید کا موضوع حُروفِ تہجی ہے۔


س:علم التّجوید کا حاصل کرنا شرعی طور پر فرض عین ہے یا فرض کفایہ؟

ج:علم التّجوید کا حاصل کرنا شرعی طور پر ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرضِ عین ہے اور کتابی صُورت میں یہ علم حاصل کرنا فرضِ کفایہ ہے







اَلَّلحنُ


س :  لحن کسے کہتے ہیں؟

ج : اصول تجوید کے خلاف اور بے قاعدہ پڑھنے کو لحن کہتے ہیں 

 توضیح الجواب


جاننا چاہئیے کہ اللّٰہ تبارک وتعالی نے قرآنِ کریم کو تجوید کے ساتھ نازل کیا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں
     

    وٙرٙتّٙلُنٙاہُ تٙرتِیلاً اٙئ اٙنزٙلنٙاہُ بِالتّٙرتِیلِ وٙھُوٙ التّٙجوِیدُ 


اور تجوید کی فرضیت کتاب و سنّت اور اجماع امّت سے ثابت ہو چکی ہے. حضرت علاّمہ جزریؒ فرماتے ہیں

وٙالاٙخذُ بِالتّٙجوِیدِ حٙتم لّٙازِم 
مٙن لّٙم یُجٙوّدِالقُراٰنٙ اٙثِم 


اور اَخذ کرنا تجوید کا واجب و لازم ہے جس نے تجوید حاصل نہ کی قرآن کو مجوّد نہ کیا وہ گناہ گار ہے. اُصولِ تجوید کے خلاف قرآن کریم پڑھنا حرام ہے. اللّٰہ تعالی فرماتے ہیں   

قُراٰناً عٙرٙبِیًّا غٙیرٙ ذِئ عِوٙج 


 کہ وہ عربی قرآن ہے جس میں ذرا بھی کجی نہیں لہذا قاری کےلیے ضروری ہے کہ وہ لحن کی معرفت حاصل کرے تاکہ اس سے اجتناب کر سکے

علامہ حقانیؒ فرماتے ہیں


فٙاوّٙل عِلمِ الذّکرِ اِتقٙانُ حِفظِہ 
ومعرفة باللحنِ من فیکٙ اذ یجری 


پس اوّل علمِ قرآن یہ ہے کہ حفظ لفظی اس کا مضبوط ہو.
اور دوم یہ کہ معرفت لحن ہو اس لئے کہ وہ تیرے منہ سے واقع ہوتا ہے


فٙکُن عٙارِفاً بِاللّٙحنِ کٙیمٙا نٙزِیلُہ 
وٙمٙا لِلّذِی لا یٙعرِفُ اللّٙحنٙ مِن عذرِی 

سو ہوجاتا تو لحن کو سمجھنے والا کہ وہ کیسے اور کہاں واقع ہوتا ہے اور نہیں ہے کسی شخص کے لیے یہ عذر معتبر کہ وہ لحن جانتا نہیں ہے ۔

اسی واسطے اصول تجوید کے خلاف اور بے قاعدہ پڑھنے کو لحن کہتے ہیں اور یہ دو قسم پر ہوتا ہے
 لحن جلی و لحن خفی ۔ 

اللَّحنُ الجَلِیُّ


س: لحنِ جلی کسے کہتے ہیں ؟

ج: ظاھر اور کھلی ہوئی غلطی کو لحنِ جلی کہتے ہیں 



س:لحنِ جلی کا وقوع کتنی قسم پر ہوتا ہے؟ 

ج:لحنِ جلی کا وقوع کئی قسم پر ہوتا ہے 



نمبر ١ یہ کہ حرفِ عربی کی جگہ حرف مخترع اور غیر عربی پڑھ لیا جائے جیسے 

قُل کی جگہ گُل 
جِبال کی جگہ گِبال 
اور حَق کی جگہ حَگ وغیرہ 


نمبر ۲ یہ کہ مخارج میں غلطی کی جائے  اور ایک حرف کو دوسرے حرف سے بدل دیا جائے ۔

جیسے اَلحَمدُ کی جگہ اَلھٙمدُ
 قَلب کی جگہ کَلب
قُل کی جگہ کُل 
قَالَ کی جگہ کَالَ 
حٙالٙ کی جگہ خٙالٙ  
اور خٙابٙ کی جگہ خاب وغیرہ 


نمبر ٣ :  یہ صفاتِ لازمہ ممیرہ میں غلطی کی جائے اور کسی حرف کو غیر متعلّقہ صفت سے موصوف کیا جائے۔ 

جیسے ص کو س سے 
اور ط کو ت سے 
ظ کو ذ سے 
ض کو ظ د سے بدل کر
عصٰی کی جگہ عسٰی
صِرٙاط کی جگہ صِرٙات   
مٙحظُورًا کی جگہ مٙحذُورًا
المٙغضُوب کہ جگہ المٙغظُوب 

وَالَا الضّٙالینٙ  کی جگہ  وَلَا الظّآلِینٙ  یا  وَلَا الدّٙالّین  پڑھ دیا جائے۔


نمبر ۴ : یہ کہ حرکات میں غلطی کی جائے اور ایک حرکت کو دوسری کی جگہ پڑھ دیا جائے 

جیسے اٙنعَمتَ کو اَنعَمتِ
اِیّٙاکَ کو اَیَّاکِ اور 
اِھدِنَا کو اَھدِنَا پڑھ دیا جائے 


نمبر  ۵ : یہ کہ حرکت و سکون میں غلطی کی جاٸے اور متحرک کو ساکن اور ساکن کو متحرک کردیا جاٸے۔

جیسے قَتَلَ کو قَتُلَ
جَعَلْنَا کو جَعَلَنَا  
اَنعَمْتَ کو اَنعَمَتَ
اُکُلَھَا کو اُکْلَھَا
رَفَثَ کو رَفْثَ وغیرہ پڑھ دیا جائے۔


نمبر ٦ : یہ کہ بے جا حذف و اضافہ کیا جائے یا حرکت مشبعہ کو غیر مشبعہ پڑھ دیا جائے جیسے

یُقِیمُونَ کو یُقِیمُنَ
یَفعَلُونَ کو یَفعَلُنَ 
اَلحَمدُ کو اَلحَمدُو
اِیَّاکَ کو اِیَّاکٰ
لَم یُولَد   کو   لَم یُلَد  
عَسٰی کو عَسَی  
وَقَضیٰ کو وَقَضَی وغیرہ پڑھ دیا جائے۔ 


نمبر٧ : یہ کہ تشدید و تخفیف میں غلطی کی جائےاور مشدد کو مخفف یا مخفف کو مشدّد کر دیا جائے جیسے

فَعّٙال کو فَعَال
مُستَقَرّ کو مُستَقَر 
اِیَّاکَ کو اِیَاکَ 
ھٙمّٙازٍ مَشّٙآءٍ کو ھَمَازٍ مَشَآءٍ
قَدَرٙ کو قَدَّرَ وغیرہ پڑھ دیا جائے۔


نمبر ٨ : یہ کہ مفرد کو تثنیّہ اور تثنیّہ کو مفرد کر دیا جائے جیسے 

قَالَ کو قَالَا  
قَتَلَ کو قَتَلا
جَعٙلَ کو جَعَلَا
بَلَغَا کو بَلَغَ
نَسِیا کو نَسِیَ
جَاوَزَا کو جَاوَزَ  
وغیرہ پڑھ دیا جائے۔ 


خلاصہ کلام یہ کہ مخارج ،صفاتِ لازمہ ،اعراب ، حرکات وسکنات ، تخفیف و تشدید ،مفرد و تثنیہ  حذف و اضافہ اور گھٹاؤ بڑھاؤ  وغیرہ کی غلطی کو لحن جلی کہتے ہیں۔ 
جو حرام و ممنوع، موجبِ عذاب و عقاب اور بسا اوقات مُفسدِ صلٰوة ہے


 اَللَّحنُ الخَفِیُّ


س : لحن خفی کسے کہتے ہیں؟

ج : پوشیدہ اور ھلکی قسم کی غلطی  کو لحنِ خفی کہتے ہیں

صفات محسّنہ محلیہ میں غلطی واقع ہونے کو لحنِ خفی کہتے ہیں جو کہ نا جائز اور مکروہ ہےاور یہ اگرچہ مُفسدِ صلٰوۃ نہیں مگر اِحتراز و اِجتناب اس سے بھی ضروری ہے



س :  مخرج کِسے کہتے ہیں؟

ج :   مُنہ کے جن موقعوں سے حروف ادا ہوتے ہیں اُن کو مخارج کہتے ہیں


س : مخارج کل کتنے ہیں؟

ج : مخارج کل سترہ ١٧ ہیں


س :  تجوید میں صفات کسے کہتے ہیں؟اور وہ کتنی ہیں؟

ج :   جن کیفیتوں سے حُروف ادا ہوتے ہیں ان کیفیتوں کو صفات کہتے ہیں.اور وہ دو طرح کی ہیں


 ایک وہ کہ اگر  وہ صفت ادا نہ ہو تو وہ حروف ہی نہ رہے ایسی صفت کو ذاتیہ، لازمہ، ممیزہ اور مقوّمہ کہتے ہیں

 اور ایک وہ کہ اگر وہ صفت ادا نہ ہو تو حرف تو وہی رہے گا مگر اس کا حسن و زینت نہ رہے اور ایسی صفت کو محسنہ,مزیّنہ محلیہ عارضیہ کہتے ہیں. 

نوٹ


حروف کے مخارج اور صفاتِ لازمہ میں کوتاہی ہونے سے جو غلطیاں ہوتی ہیں. فنِ تجوید کا اصلی مقصُود اِنہی غلطیوں سے بچنا ہے محض مخارج و صفات حروف کے دیکھ کر اپنے ادا کے صحیح ہونے کا یقین نہ کر بیٹھے اس میں ماہر استاد کی ضرورت ہے. البتّہ جب تک ایسا استاد میّسر نہ ہو بالکل کورا ہونے سے کتابوں ہی سے کام چلانا غنیمت ہے اور تجوید القرآن 
کا مطالعہ ازحد ضروری ہے


Sight Of Right

154 comments / Replies

  1. Replies
    1. آپ سب کو پہلے ہی بتا دیا گیا ہے کہ تکرار 6بجے ہوتی ہے تو یہاں 6بجے آیا کریں
      جزاك اللّٰهُ‎

      Delete
  2. ab mery pas 10 bjny wale hn mn pher subha ko hazer ho jao gi jazak Allah

    ReplyDelete
  3. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

    ReplyDelete
  4. علم تجوید کے لغوی معنی؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. ستھرا کرنا،کھرا کرنا،عمدہ کرنا

      Delete
    2. ستھرا کرنا، کھرا کرنا، عمدہ کرنا حروف کو

      Delete
    3. ستھرا کرنا ،کھڑا کرنا اور عمدہ کرنا حروف خو

      Delete
    4. حروف کو ستھرا کرنا... کھرا کرنا عمدہ کرنا

      Delete
    5. ستھرا کرنا ،کھرا کرنا ،عمدہ کرنا حرُوف کو )

      Delete
    6. حروف کو صاف ستھرا کرنا, کھرا کرنا

      Delete
    7. (ستھرا کرنا ،کھرا کرنا ،عمدہ کرنا حرُوف کو )

      Delete
    8. ستھرا کرنا کھرا کرنا عمدہ کرنا حروف کرنا

      Delete
    9. حروف کو ستھرا کرنا،کھرا کرنا،عمدہ کرنا

      Delete
    10. ستھرا کرنا, کھرا کرنا

      Delete
    11. ستھرا کرنا کھرا کرنا عمدہ کرنا

      Delete
    12. ستھرا کرنا کھرا کرنا عمدہ کرنا

      Delete
    13. ستھرا کر نا کھرا کر نا عمدہ کر نا

      Delete
    14. ستھرا کرنا کھرا کرنا عمدہ کرنا

      Delete
  5. علم التجوید کا لغوی معنی...... ہے

    ReplyDelete
    Replies
    1. ستھرا کرنا،کھرا کرنا،عمدہ کرنا

      Delete
    2. ستھرا کرنا ،کھرا کرنا ،عمدہ کرنا حرُوف کو

      Delete
    3. حروف کو ستھرا کرنا کھرا کرنا عمدہ کرنا

      Delete
    4. ستھرا کرنا،کھرا کرنا،عمدہ کرنا

      Delete
    5. ستھرا کرنا کھرا کرنا عمدہ کرنا

      Delete
    6. ستھرا کرنا کھرا کرنا عمدہ کرنا

      Delete
  6. اَلتَّجوِیدُ عِبَارَة اِخرَاجُ کُلّ حَرُفٍ مّن ..... وَ اِعطَا ُٕ حَقّہ مِنَ الصّفَاتِ مُکَمَّلاً

    ReplyDelete
  7. Replies
    1. اصول تجوید کے خلاف اور بے قاعدہ پڑھنے کو لحن کہتے

      Delete
    2. اصول تجوید کے خلاف اور بےبقاعدہ پڑھنےکو

      Delete
    3. اصولِ تجدید کے خلاف اور بے قاعدہ پڑھنے مو لحن کہتے ہیں

      Delete
    4. اصول تجوید کے خلاف اور بے قاعدہ پڑھنے کو

      Delete
    5. اصول تجوید کے خلاف اور بے قاعدہ پڑھنے کو

      Delete
    6. Asool e tajveed k khilf by kaida parny ko

      Delete
    7. اصول تجوید کے خلاف اور بے قاعدہ پرھنے کو

      Delete
    8. اصول تجوید کے خلاف اور بے قاعدہ پڑھنے کو لحن کہتے ہیں

      Delete
    9. اصول تجوید کے خلاف اور بےقاعدہ پڑھنے

      Delete
    10. اصول تجوید کے خلاف اور بے قاعدہ پڑھنے

      Delete
    11. اصول تجوید کے خلاف اور بے قاعدہ پڑھنے کو

      Delete
    12. اصول تجوید کے خلاف اور بے قاعدہ پڑھنے کو

      Delete
    13. اصول تجوید کے خلاف اور بے قاعدہ پڑھنے کو لحن کہتے ہیں

      Delete
    14. اصول تجوید کی خلا ف پڑ ھنے اور بے قاعدہ پڑھنے کو لحن کہتے ہیں

      Delete
    15. اصول تجوید کی خلاف پڑھنے اور بے قاعدہ پڑھنے کو

      Delete
  8. صفات عارضیہ کسے کہتے؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. اگر صفت ادا نہ ہو تو حرف تو وہی رہے مگر اسکا حسن اور زینت نہ رہے

      Delete
    2. وہ صفات کہ اگر وہ ادا نہ ہوں تو حرف تو وہی رہے لیکن اس کا حسن اور زینت باقی نہ رہے

      Delete
    3. وہ صفات اگر ادا نہ ہوں تو حروف تو وہی رہے لیکن اس کا حسن اور زینت باقی نہ رہی

      Delete
    4. صفت کہ اگر وہ ادا نہ ہو تو حرف تو وہی رہے لیکن اسکا حسن اور زینت باقی نہ رہے

      Delete
    5. اگر صفت ادا نہ ہو تو حرف تو وہی رہے مگر اسکا حسن اور زینت نہ رہے

      Delete
    6. ایسی صفت جوادا نہ ہو تو حرف تو وہی رہے لیکن زیب و زینت نا رہے صفت عارضیہ کہلاتی ہے

      Delete
    7. وہ صفت جو ادا نہ ہو توحرف وہی رہےلیکن زیب و زینت نہ رے

      Delete
    8. اگر صفت ادا نہ ہو تو حرف تو وہی رہے لیکن زیب و زینت نہ رہے

      Delete
    9. وہ صفات کہ اگر وہ ادا نہ ہو تو حرف تو وہی رہے لیکن زینت و زیب نہ رہے

      Delete
  9. تجوید میں صفات کتنی ہیں؟

    ReplyDelete
  10. علم تجوید کی غرض و غایت کیا ہے؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. علم تجوید کی غرض و غایت یہ ہے کہ قرآن کو صحیح طور پر پڑھنا آ جائے

      Delete
    2. قرآن مجید کو صحیح طور پر پڑھنا آجاۓ اور اللہ کی خوشنودی حاصل ہو

      Delete
    3. علم تجوید کی غرض و غایت یہ ہے کہ قرآن کو صحیح طور پر پڑھنا آ جائے


      Delete
    4. کہ قرآن کو صحیح طور پر پڑھنا آجائے

      Delete
    5. قرآن کو صحیح طور پر پڑھنا آجائے

      Delete
    6. قرآن پاک کو صحیح طور پڑھنا آ جائے

      Delete
    7. قر آن کو صحیح طور پر پڑھنا ا جا ے

      Delete
    8. ۓقران صیحیح طور پر پڑھنا آجا

      Delete
    9. قرآن مجید کو صیحیح طور پر پڑ ھنا آجے

      Delete
    10. قرآن مجید کوصیحیح طور پر پڑھنا آ جاے

      Delete
  11. صفت ادا نا ہو تو وہ حروف ہی نا رہے ایسی صفت کو کیا کہتے؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. ذاتیہ, لازمہ, ممیزہ,مقومہ

      Delete
    2. صفت ذاتیہ، لازمہ، ،ممیزہ اور مقومہ

      Delete
    3. ذاتیہ,لازمہ,ممیزہ,مقومہ

      Delete
    4. ذاتیہ، لازمہ، ممیزہ اور مقوّمہ کہتے ہیں

      Delete
    5. ذاتیہ, لازمہ, ممیزہ,مقومہ

      Delete
    6. ذاتیہ لازمہ ممیزہ

      Delete
    7. 17 PM
      صفت ذاتیہ، لازمہ، ،ممیزہ اور مقومہ

      Delete
    8. زاتیہ لازمہ مقومہ

      Delete
    9. صفت ذاتیہ لازمہ مقومہ ممیزہ

      Delete
    10. ذاتیہ لا زمہ ممیزہ مقو مہ

      Delete
    11. صفت ذاتیہ لازمہ مقومہ ممیزہ

      Delete
  12. Replies
    1. پوشیدہ اور ہلکی قسم کی غلطی کو

      Delete
    2. پوشیدہ اور ہلکی قسم کی غلطی

      Delete
    3. پوشیدہ اور ہلکی قسم کی غلطی کو

      Delete
    4. پوشیدہ اور ہلکی قسم کی غلطی

      Delete
    5. پوشیدہ اور ہلکی قسم کی غلطی

      Delete
    6. پوشیدہ اور ہلکی قسم کی غلطی

      Delete
    7. پوشیدہ اور ہلکی قسم کی غلطی کو کہتے ہیں

      Delete
    8. پوشیدہ اور ہلکی قسم کی غلطی

      Delete
    9. پو شیدہ اور ہلکی قسم کی غلطی کو

      Delete
    10. پوشیدہ اور ہلکی قسم کی غلطی

      Delete
  13. پوشیدہ اور ہلکی قسم کی غلطی کو

    ReplyDelete
  14. پو شیدہ اور ہلکی قسم کا غلطی

    ReplyDelete
  15. علم تجوید حاصل کرنا شرعی طور پر فرض عین ہے یا فرض کفایہ؟

    ReplyDelete
  16. Replies
    1. منہ کے جن مواقعوں سے حروف ادا ہوتے ہیں انکو مخارج کہتے ہیں

      Delete
  17. تجوید میں صفات کسے کہتے ہیں ؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. جن کیفیتوں سے حروف ادا ہوتے ہیں انہیں صفات کہتے ہیں

      Delete
    2. جن کیفیتو م سے حروف ادا ہوتے ہیں انہیں
      صفا ت کہتے ہیں

      Delete
  18. منہ کی جن مواقعوں سے حروف ادا ہو تے ہیں ان کو مخاطرج کہتے ہیں

    ReplyDelete

Powered by Blogger.