Qurani Qirat ke mutaliq sawalat

قرآنی قرأت کے متعلق چند سوالات


سوال

اختلاف قرأت سے متعلق مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں علما کیا فرماتے ہیں ؟

 لہجوں کا اختلاف تو اپنی جگہ ایک حقیقت ہے لیکن
بعض مقامات پر الفاظ اور معانی بھی بدل جاتے ہیں جیسے: سورة یوسف میں’’ یرتع ویلعب‘‘ کی ایک قرأت ’’وترتع وتلعب‘‘ ہے


 بقول ابن کثیررحمة اللّٰہ اسی طرح  سورة یوسف آیت ۱۱۰ میں ہے


’’وظنوا انھم قد کذبوا ‘‘


اسے حضرت عائشہؓ شد کے ساتھ پڑھنے کو سختی سے کہا کرتیں تھیں۔



 کیا یہ قرأتیں حضور ﷺ سے ثابت ہیں؟

اور ایک قرأت کو دوسری پر ترجیح کی کیا وجہ ہے؟

مذاہب اربعہ میں سب قرأتیں ہیں یا وہاں بھی کسی ایک کو دوسری پرترجیح ہے ؟

جواب

 بہت سی صحیح احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم ’’سات حروف‘‘ پر اتارا گیا ہے، اس سے مراد وہ قرأتیں ہیں جو تواتر کے ساتھ منقول چلی آرہی ہیں، البتہ  تفصیل میں علما کی دو رائیں ہیں، بعض اہل علم کی تحقیق کے مطابق یہ قرأتیں ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہیں، جبکہ دیگر علما کا کہنا ہے کہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں، دونوں اقوال میں تطبیق کی صورت یوں بتائی گئی ہےکہ قرأتوں کے نزول کا آغاز تو قرآن کریم کے ساتھ ساتھ مکہ مکرمہ میں ہی ہوچکا تھا، لیکن مکہ میں زبان کے ایک ہونے کی بنا پر  انکے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئی، مدینہ میں جب لہجوں اور زبانوں کے بولنے والے قبائل اسلام میں داخل ہونے لگے تو ان کا استعمال بھی ہونے لگا،  معلوم ہوا کہ ان قرأتوں کا ثبوت رسول ﷺ سے ہے۔ یہاں یہ پہلو بھی واضح رہے کہ متواتر قرأتوں کی قبولیت کے لیے یہ شرط ہے کہ عربی زبان میں اس کی قوی وجہ ہو، رسم عثمانی کےموفق ہو اور تواتر کے ساتھ منقول ہو۔ یہی ’’ قرأت سبعہ متواترہ‘‘  کہلاتی ہیں، اور جن قرأتوں میں ان تینوں میں سے کوئی ایک شرط نہ پائی جائے وہ ’’شاذ ‘‘کہلاتی ہیں۔ امام ابن جزریؒ نے ان قرأت کے فوائد اور حکمتوں پر تفصیلی کلام کیا ہے۔





  مذکورہ تفصیل سے ثابت ہوا کہ قرأت کی دو قسمیں ہیں، اب  ان میں سے متواترکی شاذ پر ترجیح  واضح ہے، مزید براں علما نے ’’علم الاحتجاج‘‘ کے نام سے ایک مستقل علم کی بنیاد ڈالی ہے، جس میں لغت وعربیت کے پہلو سےان قرأت کی علم و توجیہات  کی تحقیق کی جاتی ہے، اور ترجیح کے معیارات قائم کیے گئے ہیں، موضوع سے متعلقہ کتب میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ 

امام ابوحنیفہ رحمة اللّٰہ ، امام عاصم کوفی رحمة اللّٰہ کی قرأت کو ترجیح دیتے ہیں، باقی ائمہ عموما روایت حفص کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

واللّٰہ اعلم

206 comments / Replies

  1. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا اختلاف اپنی جگہ حقیقت ہے

    ReplyDelete
  2. بعض مقامات پر الفاظ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھی بدل جاتے ہیں

    ReplyDelete
  3. اسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ۔۔۔۔۔۔۔کے ساتھ پڑھنے کو سختی سے کہا کرتییں تھیں۔

    ReplyDelete
  4. کیا یہ۔۔۔۔۔۔۔ حضور ﷺ سے ثابت ہے؟

    ReplyDelete
  5. تفسیل میں علماء کی۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں

    ReplyDelete
  6. قرائتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سےقبل۔۔۔۔۔۔میں نازل ہوئی

    ReplyDelete
  7. جن قرأتوں میں کوئی ایک شرط نہ پائی جائے وہ ’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘کہلاتی ہیں۔

    ReplyDelete
  8. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  9. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

    ReplyDelete
  10. قرآن کریم کتنے حروف پر اتارا گیا؟

    ReplyDelete
  11. متواتر قرآتوں کی قبولیت کے لیے کیا شرط ہے؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. عربی زبان میں اس کی قوی وجہ ہو، رسم عثمانی کےموفق ہو اور تواتر کے ساتھ منقول ہو

      Delete

    2. عربی زبان میں اس کی قوی وجہ ہو، رسم عثمانی کےموفق ہو اور تواتر کے ساتھ منقول ہو

      Delete
    3. عربی زبان میں اس کی قوی وجہ ہے رسم
      عثما نی کے موفق ہو اور تواتر کے ساتھ منقول
      ہو

      Delete

    4. عربی زبان میں اس کی قوی وجہ ہے رسم
      عثما نی کے موفق ہو اور تواتر کے ساتھ منقول
      ہو

      Delete
    5. عربی زبان میں اس کی قوی وجہ ہو، رسم عثمانی کےموفق ہو اور تواتر کے ساتھ منقول ہو


      Delete
    6. عربی زبان میں اس کی قوی وجہ ہو, رسم عثمانی کے موافق ہو اور تواتر کے ساتھ منقول ہو

      Delete
  12. Replies
    1. جن قراتوں میں کوئ ایک شرط بھی نا پائ جاۓ

      Delete

    2. جن قرأتوں میں کوئی ایک شرط نہ پائی جائے وہ شاذ کہلاتی ہیں

      Delete
    3. شاذ سے مراد وہ قرأت ہے جس میں متواتر قرأت کی کوئی ایک وجہ نا پائی جائے۔

      Delete
    4. جن قرا ت میں کوی ایک شرط نہ پائ جا ے
      وہ شا ذ کہلا تی ہے

      Delete

    5. شاذ سے مراد وہ قرأت ہے جس میں متواتر قرأت کی کوئی ایک وجہ نا پائی جائے

      Delete
    6. جن قراتو ں میں کوئی ایک شرط نہ پائی جائے وہ شاذ کہلاتی ہیں

      Delete
    7. جن قراتوں میں کوئ ایک شرط بھی نا پائ جاۓ

      Delete
    8. جن قراتوں میں کوئی ایک شرط بھی نا پائی جاۓ

      Delete
  13. قرات کی کتنی قسمیں ہیں؟

    ReplyDelete
  14. امام ابو حنیفہ کس کی قرات کو ترجیح دیتے ہیں؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. امام عاصم کوفی رحمتہ اللہ کی

      Delete
    2. امام عاصم کوفی رحمة اللّٰہ کی

      Delete
    3. امام عاصم کوفی علیہ رحمۃ کی

      Delete
    4. امام عاصم کوفی علیہ رحمتہ کی

      Delete
    5. امام عاصم کوفی علیہ رحمتہ کی

      Delete
    6. امام عاصم کوفی رحمۃ اللہ علیہ

      Delete
    7. امام عاصم کوفی رحمتہ اللہ کی

      Delete
    8. امام عاصم کوفی رحمته الله عليه

      Delete
  15. اور باقی ائمہ کس کی قرات کو ترجیح دیتے؟

    ReplyDelete
  16. وظنوا انھم قد کذبوا
    کو کونسی صحابیہ شد کے ساتھ پڑھنے کو سختی سے کہا کرتیں تھیں؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ

      Delete
    2. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ

      Delete
    3. حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا

      Delete
    4. حضرت عاٸشہ رضی اللہ عنہا

      Delete
    5. حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہا

      Delete
    6. اماں عائشہ صدیقہ رض

      Delete
    7. حضرت عاءشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ

      Delete
    8. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ

      Delete
  17. عربی زبان میں اسکی قوی وجہ ہو, رسم عثمانی کے موفق ہو اور تواتر کے ساتھمنقول ہو

    ReplyDelete
  18. سورۃ یوسف میں "یرتع ویلعب" کی ایک قرات کونسی ہے؟؟

    ReplyDelete
  19. بعض اہل علم کی تحقیق کے مطابق یہ قراتیں کہاں نازل ہوئی؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں

      Delete
    2. ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں

      Delete
    3. ہجرت سے قبل مکہ مکر مہ میں

      Delete
    4. ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں

      Delete
    5. ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں

      Delete
    6. ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں

      Delete
    7. ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں

      Delete
  20. کونسے امام نے ان قرات کے فوائد اور حکمتوں پر تفصیلی کلام کیا ہے؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. امام ابن جزریؒ رحمتہ اللہ علیہ

      Delete
    2. امام ابن جزری علیہ رحمۃ

      Delete
    3. اما م ابن جزری علیہ رحمتہ

      Delete
    4. امام ابن جزری رحمتہ

      Delete
    5. امام ابن جزری رحمتہ

      Delete
    6. امام ابن جزریؒ رحمتہ اللہ علیہ


      Delete
  21. امام ابن جزری رحمتہ اللہ نے

    ReplyDelete
  22. قرأتوں کے نزول کا آغاز تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے ساتھ ساتھ مکہ مکرمہ میں ہی ہوچکا تھا

    ReplyDelete
  23. متواتر قرأتوں کی قبولیت کے لیے یہ شرط ہے کہ عربی زبان میں اس کی قوی وجہ ہو، رسم عثمانی کےموفق ہو اور تواتر کے ساتھ منقول ہو۔ یہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہلاتی ہیں

    ReplyDelete

Powered by Blogger.