Taharat ka byan

طہارت کا بیان


سوال : فقہاء اپنی کتابوں کو طہارت کے احکام کے ساتھ کیوں شروع کرتے ہیں؟

جواب : کیونکہ طہارت, نماز کی شرائط میں سے ہے اور نماز, اسلام کے پانچ ارکان میں سے دوسرا رکن ہے پس (فقہاء)طہارت کے احکام کو مقدم کرتے ہیں پھر بعد میں نماز کے احکام ذکر کرتے ہیں



سوال : لغت اور شریعت کی رو سے طہارت کا معنی کیا ہے؟

جواب : طہارت لغت کی رو سے نظافت اور شریعت کی رو سے حدث اصغر اور(حدث)اکبر کو زائل کرنا اور کپڑوں,جسموں اور نماز کی جگہوں سے نجاستوں کو زائل کرنا ہے





سوال : حدث اکبر کیا ہے؟

جواب : جب مرد یا عورت پر تمام بدن کو دھونا فرض ہو جائے تو وہ حدث اکبر ہے. پس جب وہ(سارے بدن کو) دھو لے تو وہ حدث دور ہو جاتا ہے اور اس کا نام غسل اور اغتسال رکھا جاتا ہے


سوال : حدث اصغر کیا ہے؟

جواب : جب نماز ادا کرنے کیلیئے مرد یا عورت پر بعض اعضاء کا دھونا اور(دیگر)بعض (اعضاء) کا مسح کرنا فرض ہو جائے تو یہ حدث اصغر ہے.اور جب ان اعضاء سے یہ حدث دور کر دیا جائے گا تو اس(عمل) کی وجہ سے طہارت حاصل ہو جاتی ہے.اور اس دھونے کا نام وضو  اور آدمی(کا نام)متوضی رکھا جاتا ہے


سوال : ان اعضاء کو بیان کیجیئے وضو میں جن کا دھونا یا ان پر مسح کرنا ضروری ہے؟ 

 1

 چہرہ سر کے بالوں کے اگنے کی جگہ کی منتہا سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور دائیں کان کی لو سے بائیں کان کی لو تک


2

 دونوں ہاتھ, انگلیوں کے سروں سے کہنیاں تک


3

دونوں پاؤں انگلیوں کے سرے سے ٹخنوں تک
پس یہ اعضاء وضو میں دھوئے جاتے ہیں اور آدمی ان سب کو دھوئے بغیر متوضی نہیں بنتا. اور اگر ایک بال کی جگہ ایسی رہ جائے کہ اس کو پانی نہ پہنچا ہو تو (آدمی)  متوضی نہیں بنتا  یہاں تک کہ اس جگہ کو پانی کے ساتھ دھو لے

4

اور جس عضو کا مسح کیا جائے وہ سر ہی ہے. تمام سر کا مسح مسنون قرار دیا گیا ہے. اس کے چوتھائی کا مسح فرض سے کفایت کرتا ہے



سوال :  کیا دونوں ٹخنے اور دونوں کہنیاں دھونے میں داخل ہیں؟

جواب  : جی ہاں! وہ دونوں وضو کے فرض میں داخل ہوتے ہیں



  سوال :  وضو میں تینوں اعضاء کے دھونے کی فرضیت اور سر کے ماح کی فرضیت آپ کو کہاں سے معلوم ہوئی؟

جواب : اللّه  تعالی نے اپنی کتاب میں ان کو بیان فرمایا


یٰاٙیُّھٙاالّٙذِیْنٙ اٰمٙنُوْا اِذٙا قُمْتُمْ اِلٙی الصّٙلٰوۃِ فٙاغْسِلُوْ وُجُوْھٙکُمْ وٙاٙیْدِیٙکُمْ اِلٙی الْمٙرٙافِقِ وٙامْسٙحُوْا بِرُوُسِکُمْ وٙاٙرْجُلٙکُمْ اِلٙی الْکٙعْبٙیْنِ 


(المائدہ:٦)


ترجمہ : اے ایمان والوں! جب تم نماز کو اٹھنے لگو(اس حال میں کہ تم بےوضو ہوؤ) تو اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوؤ اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں سمیت دھؤ



سوال : چوتھائی سر کے مسح کی فرضیت پر دلیل کیا ہے؟

جواب   اس پر دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّه عنہ کی حدیث ہے آپ صلی اللّه  علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ" نبی اکرم صلی اللّه علیہ وسلم نے وضو کیا پس آپ صلی اللّه علیہ وسلم نے اپنی پیشانی 
کی مقدار پر مسح کیا

146 comments / Replies

  1. طہارت, نماز کی .... میں سے ہے

    ReplyDelete
  2. نماز, اسلام کے پانچ ارکان میں سے ..... رکن ہے

    ReplyDelete
  3. فقہاء)..... کے احکام کو مقدم کرتے ہیں پھر بعد میں نماز کے احکام ذکر کرتے ہیں

    ReplyDelete
  4. طہارت لغت کی رو سے... کو کہتے ہیں

    ReplyDelete
  5. شریعت کی رو سے طہارت کے کیا معنی ہیں؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. حدث اصغر اور اکبر کو رزائل کرنا اور کپڑوں جسم اور نماز کی جگہ سے نجاستوں کورزائل کرنا

      Delete
    2. 9:24 AM
      حدث اصغر اور اکبر کو زائل کرنا اور کپڑوں جسم اور نماز کی جگہ سے نجاستوں کوزائل کرنا


      Delete
    3. حدث اصغر اور(حدث)اکبر کو زائل کرنا اور کپڑوں,جسموں اور نماز کی جگہوں سے نجاستوں کو زائل کرنا ہے

      Delete
    4. حدث اصغر اور(حدث)اکبر کو زائل کرنا اور کپڑوں,جسموں اور نماز کی جگہوں سے نجاستوں کو زائل کرنا ہے

      Delete
    5. حدیث اصغر اور(حدث)اکبر کو زائل کرنا اور کپڑوں,جسموں اور نماز کی جگہوں سے نجاستوں کو زائل کرنا ہے

      Delete
    6. حدث اكبر اور اصغر كو زائل كرنا اور كپڑوں جسم اور نماز كي جگہ سے نجاست دور كرنا

      Delete
  6. جب مرد یا عورت پر تمام بدن کو دھونا فرض ہو جائے تو وہ .... ہے.

    ReplyDelete
  7. پس جب وہ(سارے بدن کو) دھو لے تو وہ حدث دور ہو جاتا ہے اور اس کا نام... رکھا جاتا ہے

    ReplyDelete
  8. حدث اصغر سے کیا مراد ہے؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. جب نماز ادا کرنے کےلےمردیاعورت پر بعض اعضا کو دھونا اور بعض کا مسح کرنا فرض ہوجاۓ تو یہ حدث اصغر ہے

      Delete
    2. جب نماز ادا کرنے کیلیئے مرد یا عورت پر بعض اعضاء کا دھونا اور(دیگر)بعض (اعضاء) کا مسح کرنا فرض ہو جائے تو یہ حدث اصغر ہے.

      Delete

    3. جب نماز ادا کرنے کیلیئے مرد یا عورت پر بعض اعضاء کا دھونا اور(دیگر)بعض (اعضاء) کا مسح کرنا فرض ہو جائے تو یہ حدث اصغر ہے.

      Delete
    4. جب نماز ادا کرنے کیلیئے مرد یا عورت پر بعض اعضاء کا دھونا اور(دیگر)بعض (اعضاء) کا مسح کرنا فرض ہو جائے تو یہ حدث اصغر ہے

      Delete
  9. جب ان اعضاء سے یہ حدث دور کر دیا جائے گا تو اس(عمل) کی وجہ سے طہارت حاصل ہو جاتی ہے.اور اس دھونے کا نام ..... اور آدمی(کا نام)..... رکھا جاتا ہے

    ReplyDelete
  10. وضو میں کون کون سے اعضاء کا دھونا فرض ہے؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. چہرہ دھونا
      دونوں ہاتھ کو کہنیوں تک دھونا
      چوتھائی سر کا مسح کرنا
      پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا

      Delete
    2. درج ذیل اعضاء متذکرہ طریقے سے دھونے فرض ہیں،
      چہرہ سر کے بالوں کے اگنے کی جگہ
      کی منتہا سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور دائیں کان کی لو سے بائیں کان کی لو تک


      دونوں ہاتھ, انگلیوں کے سروں سے کہنیاں تک


      دونوں پاؤں انگلیوں کے سرے سے ٹخنوں تک

      Delete
    3. چہرہ دھونا
      دونوں ہاتھ کو کہنیوں تک دھونا
      چوتھائی سر کا مسح کرنا
      پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا

      Delete
    4. چہرہ دھونا دونوں ہاتھ کوکو نیو تک ہ
      جو تھائی سر کا مسح کرنا پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا

      Delete
    5. چہرہ دھونا دونوں ہاتھ کوکو نیو تک ہ
      جو تھائی سر کا مسح کرنا پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا

      Delete
  11. اور جس عضو کا مسح کیا جائے وہ..... ہی ہے

    ReplyDelete
  12. تمام سر کا مسح .... قرار دیا گیا ہے.

    ReplyDelete
  13. سر کے ... کا مسح فرض سے کفایت کرتا ہے

    ReplyDelete
  14. کیا دونوں ٹخنے اور دونوں کہنیاں دھونے میں داخل ہیں؟

    ReplyDelete
  15. چوتھائی سر کے مسح کی فرضیت پر دلیل کیا ہے؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. اس پر دلیل حضرت مغیرہ بن شعب رضى الله عنه کی حدیث ہے آپ صلى الله عليه وسلم فرماتے ہیں کہ "نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے وضو کیا پس آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی پیشانی کی مقدار پر مسح کیا"

      Delete
    2. اس پر دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّه عنہ کی حدیث ہے آپ صلی اللّه علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ" نبی اکرم صلی اللّه علیہ وسلم نے وضو کیا پس آپ صلی اللّه علیہ وسلم نے اپنی پیشانی
      کی مقدار پر مسح کیا

      Delete
    3. اس پر دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّه عنہ کی حدیث ہے آپ صلی اللّه علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ" نبی اکرم صلی اللّه علیہ وسلم نے وضو کیا پس آپ صلی اللّه علیہ وسلم نے اپنی پیشانی
      کی مقدار پر مسح کیا

      Delete
    4. دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّه عنہ کی حدیث ہے آپ صلی اللّه علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ" نبی اکرم صلی اللّه علیہ وسلم نے وضو کیا پس آپ صلی اللّه علیہ وسلم نے اپنی پیشانی
      کی مقدار پر مسح کیا

      Delete
    5. اس پر دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّه عنہ کی حدیث ہے آپ صلی اللّه علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ" نبی اکرم صلی اللّه علیہ وسلم نے وضو کیا پس آپ صلی اللّه علیہ وسلم نے اپنی پیشانی
      کی مقدار پر مسح کیا

      Delete
  16. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  17. وضو میں تینوں اعضاء کے دھونے کی فرضیت اور سر کے مسح کی فرضیت آپ کو کہاں سے معلوم ہوئی؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ترجمہ :اے ایمان والو جب تم نماز کو اٹھنے لگو (اس حال میں کہ تم بے وضو ہوجاو)تواپنےچہروں اورہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوؤ اپنے سر کا مسح کرو اور پیروں کوٹخنوں سمیت دھوؤ

      Delete
    2. قرآن پاک کی سورۃ المائدہ آیت نمبر6میں اسکی فرضیت کا حکم ملتا ہے

      اللہ تعالی نے بیان فرمایا
      ترجمہ :اے
      ایمان والو جب تم نماز کو اٹھنے لگو (اس حال میں کہ تم بے وضو ہوجاو)تواپنےچہروں اورہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوؤ اپنے سر کا مسح کرو اور پیروں کوٹخنوں سمیت دھوؤ

      Delete

    3. اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ترجمہ :اے ایمان والو جب تم نماز کو اٹھنے لگو (اس حال میں کہ تم بے وضو ہوجاو)تواپنےچہروں اورہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوؤ اپنے سر کا مسح کرو اور پیروں کوٹخنوں سمیت دھوؤ

      Delete

    4. قرآن پاک کی سورۃ المائدہ آیت نمبر ٦ میں اسکی فرضیت کا حکم ملتا ہے

      اللہ تعالی نے بیان فرمایا
      ترجمہ :اے
      ایمان والو جب تم نماز کو اٹھنے لگو (اس حال میں کہ تم بے وضو ہوجاو)تواپنےچہروں اورہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوؤ اپنے سر کا مسح کرو اور پیروں کوٹخنوں سمیت دھوؤ

      Delete

    5. قرآن پاک کی سورۃ المائدہ آیت نمبر6میں اسکی فرضیت کا حکم ملتا ہے

      اللہ تعالی نے بیان فرمایا
      ترجمہ :اے
      ایمان والو جب تم نماز کے لیۓ اٹھنے لگو(اس حال میں کہ تم بے وضو ہوجاٶ)تواپنےچہروں اورہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوؤ اپنے سر کا مسح کرو اور پیروں کوٹخنوں سمیت

      دھوؤ

      Delete
    6. اللہ تعالی نے بیان فرمایا
      اے ایمان والو جب تم نماز کے لیے اٹھنے لگو اس حال میں کہ تم بے وضو ہو جاؤ تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دو اور اپنے سر کا مسح کرو اور پیروں کو ٹخنوں سمیت دو

      Delete
    7. قرآن پاک کی سورۃ المائدہ آیت نمبر6میں اسکی فرضیت کا حکم ملتا ہے

      اللہ تعالی نے بیان فرمایا
      ترجمہ :اے
      ایمان والو جب تم نماز کے لیۓ اٹھنے لگو(اس حال میں کہ تم بے وضو ہوجاٶ)تواپنےچہروں اورہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوؤ اپنے سر کا مسح کرو اور پیروں کوٹخنوں سمیت

      دھوؤ

      Delete
  18. سارے اسباق ختم کر دئے ایک ایک سبق پڑھو نہ

    ReplyDelete

Powered by Blogger.