Mirzaiyon k mulhidana aqaid
Unit 3
Lesson 12
مرزائیوں کے ملحدانہ عقائد
1۔
اسلام کا قطعی عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ خاتم النبیّن ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا اس کے برعکس قادیانی نہ صرف اسلام کے اس قطعی عقیدے کے منکر ہیں بلکہ نعوذباللّه وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے بغیر اسلام کو مردہ تصور کرتے ہیں
چناچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا کہنا ہے کہ
ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے یہودیوں عیسائیوں اور ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لیے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا
اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے کس لیے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہیے
ہم پر کٸی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اس لیے ہم نبی ہیں
امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہیے
(ملفوظات مرزاجلد١٠،ص١٢٧،طبع شدربوہ)
2۔
اسلام کا قطعی عقیدہ ہے کہ وحی نبوت کا دروازہ آنحضرت ﷺ کے بعد بند ہو چکا ہے اور جو شخص آپ ﷺ کے بعد وحی نبوت کا دعویٰ کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے لیکن قادیانی ، مرزا غلام احمد قادیانی کی خود تراشیدہ وحی پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے قرآن کریم کی طرح مانتے ہیں
قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نام تذکرہ ہے قادیانیوں نے مرزا غلام احمد کی وحی کو ایک کتاب میں مرتب کیا ہے اور اسکا نام تذکرہ رکھا ہے
یہ گویا قادیانی قرآن ہے اور نعوذباللّه یہ قادیانی وحی معمولی قسم کا الہام نہیں
جو الہام اولیاء اللّه کو ہوتا ہے بلکہ انکے نزدیک یہ وحی قرآن کریم کے سنگ ہے
ملاحظہ فرمائیے
اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی
(ایک غلطی کا ازالہ ص٦طبع شدربوہ )
مجھے اپنی وحی پر ایسے ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات ،انجیل اور قرآن کریم پر
( اربعین ص ١١٢ طبع شدربوہ )
میں خدا تعالٰی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے اوپر نازل ہوتاہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں
( حقیقتہ الوحی ص٢٢٠طبع شدربوہ )
3۔
اسلام کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد معجزہ دکھانے کا دعویٰ کفر ہے۔ معجزہ دکھانا صرف نبی کی خصوصیت ہے پس جو شخص معجزہ دکھانے کا دعویٰ کرے
وہ مدعی نبوت ہونے کی وجہ سے کافر ہے شرح فقہ اکبر میں ملّا علی قادری رحمتہ اللّه علیہ لکھتے ہیں کہ
التحدی فرع دعوی النبوة ودعوی النبوہ بعد نبیا ﷺ کفر بالاجماع
( ص ٢٠٢)
معجزہ دکھانے کا دعویٰ فرع ہے (دعویٰ نبوت) نبوت کا دعویٰ ہمارے نبی ﷺ کے بعد بالاجماع کفر ہے
اس کے برعکس قادیانی ، مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی کے ساتھ اس کے معجزات پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور آنحضرتﷺ کے معجزات کو نعوذباللّه قصے اور کہانیاں قرار دیتے ہیں
وہ آنحضرت ﷺ کو اسی صورت نبی ماننے کو تیار ہیں جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی نبی مانا جاۓ ورنہ ان کے نزدیک نہ تو آنحضرتﷺ نبی ہیں اور نہ دین اسلام ، دین ہے
: مرزا غلام احمد
وہ دین، دین نہیں اور نہ وہ نبی، وہ نبی ہے جس کی متابعت سے انسان اللّہ تعالٰی سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیّہ سے مشرف ہو سکے وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ صرف چند معقول باتوں پر
( اسلامی شریعت پر جو آنحضرتﷺ سے منقول ہے
ناقل)
انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گٸی ہے
سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کے زیادہ مستحق ہے
( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٩ )
یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جاۓ کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے اور آئندہ قیامت تک اس
کی کوئی بھی امید نہیں
صرف قصوں کی پوجا کرو
پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا تعالٰی کا کچھ پتا نہیں لگتا
میں اللّہ تعالٰی کی قسم کھا کر کہتا ہوں اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہو گا
میں ایسے مذہب کانام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی
( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣)
اگر سچ پوچھو تو ہمیں قرآن کریم پر رسول کریم ﷺ پر بھی اسی ( مرزا ) کے ذریعے ایمان حاصل ہوا ۔ ہم قرآن کریم کو خدا کا کلام اس لیے یقین کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے آپ ( مرزا) کی نبوت ثابت ہوئی
ہم محمد ﷺ کی نبوت پر اس لیے ایمان لاتے ہیں کہ اس آپ ( مرزا) کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے نادان ہم پر اعتراض کرتا ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود ( مرزا) کو نبی مانتے ہیں اور کیوں اس کے کلام کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں
وہ یہ نہیں جانتا کہ قرآن کریم پر یقین ہمیں اس کے کلام کی وجہ سے ہوا اور محمد ﷺ کی نبوت پر یقین اس ( مرزا) کی نبوت سے ہوا ہے
( مرزا بشیرالدین کی تقریر الفضل قادیان جلد ١٣/ ٣ مورخہ ١١جولاٸ ١٩٢٥ء )
مرزا صاحب کی مندرجہ بالا دونوں عبارتوں سے واضح ہے اگر مرزا قادیانی صاحب پر وحی الٰہی کا نزول تسلم نہ کیا جاۓ اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ مانا جاۓ تو حضرت محمد رسول اللّه ﷺ کی نبوت بھی ان کے نزدیک نعوذباللّه باطل ہے
اور دین اسلام محض قصے کہانیوں کا مجموعہ ہے مرزا صاحب ایسے اسلام کو لعنتی شیطانی اور قابل نفرت قرار دے کر اس سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں
بلکہ سب دہریوں سے بڑھ کر اپنے دہریہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں مسلمانوں کو نظر عبرت سے دیکھنا چاہیے
کیا اس سے بڑھ کر کوئی کفر و الحاد اور زندقہ اور بددینی ہو سکتی ہے کہ آنحضرتﷺ اور دین اسلام کو اس طرح پیٹ بھر کر گالیاں نکالی جائیں
4۔
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرتﷺ ”محمد رسول اللّه“ ہیں لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں اپنے الہام کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ خود محمد رسول اللّه ہے نعوذباللّه چونکہ قادیانی مرزا غلام احمد کی وحی پر قطعی ایمان رکھتے ہیں
اس لیے وہ مرزا آنجہانی کو محمد رسول اللّه مانتے ہیں اور جو شخص مرزا کو ”محمد رسول اللّه نہ مانے اسے کافر سمجھتے ہیں
5۔
قرآن کریم اور احادیث متواترہ کی بنا پر مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر اٹھایا گیا اور وہ قرب قیامت میں نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے لیکن مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی عیسیٰ ہے اور قرآن و حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی جو خبر دی گٸ ہے اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے
قادیانیوں کے اس طرح بے شمار زندیقانہ عقائد ہیں جن پر علماء امّت نے بہت سی کتابیں تالیف فرمائی ہیں۔ اس لیے مرزائیوں کا کافر و مرتد اور ملحد و زندیق ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے
نماز جنازہ صرف مسلمانوں کی پڑھی جاتی ہے کسی غیر مسلم کا جنازہ جائز نہیں
قرآن کریم میں ہے
ولا تصل علٰی احد منھم مات ابدً اولا تقم علیٰ قبرہ انھم کفروا باللّه ورسولہ وماتوا وھم فاسقون
( التوبة:٨٤)
اور ان میں مر جاۓ تو اس (کے جنازے) پر کبھی نماز نہ پڑھ اور نہ ( دفن کے لیے) اس کی قبر پر کھڑے ہو جائیں کیونکہ انہوں نے اللّه اور اسکے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ حالت کفر ہی میں مرے ہیں
اور تمام فقہاء امّت اس بات پر متفق ہیں کہ جنازہ کے جائز ہونے کے لیے شرط ہے کہ میّت مسلمان ہو غیر مسلم کا جنازہ بالاجماع جائز نہیں نہ اس کے لیے دعاۓ مغفرت کی اجازت ہے اور نہ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا ہی جائز ہے

اسلام کے اس قطعی عقیدے کے ۔۔۔۔۔ہے
ReplyDeleteمنکر
Deleteمنکر
Deleteمنکر
Deleteمنکر
Deleteنبوت کا دعوئ ہمارے نبی کے بعد بلاشبہ ۔۔۔۔۔ہے
ReplyDeleteداٸرہ اسلام سے خارج ہے
Deleteداٸرہ اسلامی سے خارج
DeleteDaira e islam sa kharij
Deleteجنازہ کے جائز ہونے کی شرط ہے کہ میت ۔۔۔۔۔۔۔ہو
ReplyDeleteمسلمان
Deleteمسلمان
Deleteمسلمان
DeleteMudlaman
Deleteاور نہ ہی اس کو مسلمانوں کے ۔۔۔۔۔۔میں دفن لنا جائز ہے
ReplyDeleteقبرستان
Deleteقبرستان
Deleteقبرستان
DeleteQbristan
Delete