Mirzaiyon ke aqaid
قادیانی عقائد کا تحقیقی و دستاویزی جائزہ
عقیدہ ختمِ نبوت اور دعوائے نبوت کا تقابل
اسلام کا قطعی اور اجماعی عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی (خاتم النبیّین) ہیں، اور آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی شخص منصبِ نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس قادیانی نظریہ اسلام کے اس بنیادی و قطعی عقیدے کے نہ صرف خلاف ہے، بلکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان لائے بغیر اسلام کو (نعوذ باللہ) نامکمل تصور کرتے ہیں۔
انقطاعِ وحی اور قادیانی وحی کی حیثیت
اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ وحیِ نبوت کا سلسلہ آنحضرت ﷺ کی رحلت کے ساتھ مکمل اور منقطع ہو چکا ہے، اور آپ ﷺ کے بعد تشریعی یا غیر تشریعی وحی کا دعویٰ کرنا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔ لیکن قادیانی مصنفات میں مرزا غلام احمد قادیانی کی خود ساختہ وحی پر قرآن مجید جیسا قطعی ایمان رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔
قرآنِ کریم کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام "تذکرہ" ہے۔ قادیانی جماعت نے مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی و الہامات کو ایک کتاب میں مدون کر کے اس کا نام "تذکرہ" رکھا ہے، اور ان کے لٹریچر کے مطابق ان کا یہ الہام اولیاء اللہ کے عام الہامات جیسا نہیں بلکہ قرآن و تورات کی طرح قطعی اور مساوی حیثیت رکھتا ہے۔
معجزہ اور دعوائے نبوت پر فقہی اصول
علمائے امت اور ائمۂ کلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ معجزہ درحقیقت نبوت کی تصدیق کی علامت ہوتا ہے۔ چونکہ نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے، لہٰذا بعد میں کسی کا معجزے یا نبوت کا دعویٰ کرنا اجماعِ امت کے خلاف ہے۔ علامہ ملا علی قاریؒ اپنی تصنیف "شرح الفقہ الاکبر" میں لکھتے ہیں:
اس کے برعکس قادیانی لٹریچر میں نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی کے معجزات کا دعویٰ ملتا ہے بلکہ نبی کریم ﷺ کے لائے ہوئے دین کو مرزا غلام احمد قادیانی کی تصدیق کے ساتھ مشروط کرنے کی کوشش کی گئی ہے:
مندرجہ بالا مستند اقتباسات سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ قادیانی فکر میں نبی کریم ﷺ کی نبوت اور اسلامی شریعت کو مرزا غلام احمد قادیانی کی خود ساختہ نبوت کے تابع قرار دیا گیا ہے۔ امتِ مسلمہ کے تمام مکاتبِ فکر نے ان تحریروں کو نصوصِ قرآنی اور سنتِ متواترہ کے صریح خلاف قرار دے کر رد فرمایا ہے۔
رسالتِ محمدی ﷺ اور دعوائے بروزی نبوت
اہلِ اسلام کا متفقہ کلمہ اور عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہی تنہا اور کامل "محمد رسول اللہ" ہیں۔ تاہم مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے رسالے "ایک غلطی کا ازالہ" میں بروزی و ظلی نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس اسمِ گرامی کا مظہر قرار دیا۔ قادیانی فکر میں اس دعوے کو تسلیم نہ کرنے والے کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا جاتا ہے، جو کہ جمہور امت کے اجماعی عقائد سے کھلا انحراف ہے۔
نزولِ عیسیٰ علیہ السلام اور نمازِ جنازہ کے شرعی احکام
قرآنِ کریم اور احادیثِ متواترہ کے مطابق مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا گیا اور وہ قربِ قیامت بحیثیتِ امتی نازل ہو کر عدل قائم فرمائیں گے۔ اس کے برعکس قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ نزولِ مسیح سے مراد خود مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
انہی صریح نصوص کے انحراف کی بنا پر عالمِ اسلام کے تمام جید فقہاء، علمی اداروں (جیسے مجمع الفقہ الاسلامی، رابطۂ عالمِ اسلامی) اور 1974ء میں پاکستان کی پارلیمنٹ کی متفقہ آئینی ترمیم کے تحت قادیانی گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔
اسلامی شریعت کے مطابق نمازِ جنازہ اور دعا کی شرائط صرف اہل ایمان کے لیے مخصوص ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا:
تمام فقہائے امت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ نمازِ جنازہ کے جواز کی بنیادی شرط میت کا دائرۂ اسلام میں ہونا ہے، اور جو گروہ بنیادی اسلامی عقائد (خصوصاً ختمِ نبوت) کا انکار کرے، شریعت کی رو سے ان پر اسلامی جنازے کے احکام لاگو نہیں ہوتے۔
اسلام کے اس قطعی عقیدے کے ۔۔۔۔۔ہے
ReplyDeleteمنکر
Deleteمنکر
Deleteمنکر
Deleteمنکر
Deleteنبوت کا دعوئ ہمارے نبی کے بعد بلاشبہ ۔۔۔۔۔ہے
ReplyDeleteداٸرہ اسلام سے خارج ہے
Deleteداٸرہ اسلامی سے خارج
DeleteDaira e islam sa kharij
Deleteجنازہ کے جائز ہونے کی شرط ہے کہ میت ۔۔۔۔۔۔۔ہو
ReplyDeleteمسلمان
Deleteمسلمان
Deleteمسلمان
DeleteMudlaman
Deleteاور نہ ہی اس کو مسلمانوں کے ۔۔۔۔۔۔میں دفن لنا جائز ہے
ReplyDeleteقبرستان
Deleteقبرستان
Deleteقبرستان
DeleteQbristan
Delete