Umrah ka bayan
عمرہ کا بیان
سوال: لغت اور شریعت کی رو سے عمرہ کا مطلب، اس کے فرائض، واجبات اور اسے ادا کرنے کا طریقہ بیان کیجئے؟
جواب: لغت کی رو سے عمرہ کا مطلب زیارت ہے اور شریعت کی رو سے چار عمور کے مجموعہ پر اس کا اطلاق ہوتا ہے
1۔
احرام
2۔
بیت اللّه کا طواف
3۔
صفا و مروہ کے درمیان سعی
4۔
حلق یا قصر
اور فرض ان میں سے دو ہیں یعنی احرام اور طواف اور واجب بھی دو ہیں یعنی سعی اور حلق یا قصر۔ پس جب کوئی شخص عمرہ کرنا چاہے تو میقات سے احرام باندھے پس غسل کرے یا وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے پھر عمرہ کی نیت کرتے ہوئے کہے
اَللّٰھُمَ اِنِّیْ اُرِیْدُالْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْھَالِیْ وَ تَقَبَّلْھَا مِنِّیْ
ترجمہ: اے اللّه ! میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں پس مجھے اس کی توفیق دیجیے یا اسے میرے لیے آسان کیجیے اور میری طرف سے اسے قبول فرمایئے۔
پھر اس طرح تلبیہ کہے جس طرح ہم نے حج کے احرام میں ذکر کیا۔ پس جب وہ تلبیہ کہہ لے تو تحقیق وہ محرم ہوگیا پس جب وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو تو عمرہ کے لیے سات چکر طواف کرے پھر صفا و مروہ کے درمیان سات چکر سعی کرے اس کے مطابق جس کا بیان حج میں گزر چکا جب وہ مروہ پر سعی ختم کرے تو سر کے بال مونڈے یا چھانٹے پس جب یہ عمل کر لے تو تحقیق اس کا عمرہ مکمل ہوگیا اور وہ عمرہ کے احرام سے نکل گیا۔
سوال : کیا عمرہ کے احرام میں ممنوعات ہیں؟
جواب : جی ہاں! عمرہ کے احرام کی ممنوعات حج کے احرام کی ممنوعات کی طرح ہیں پس وہ جماع یا گندی گفتگو، گناہ اور جھگڑے سے پرہیز کرے اور سلا ہوا کپڑا نہ پہنے اور بال نہ مونڈے اور نہ چھانٹے اور خوشبو نہ لگائے اور اپنا سر اور چہرہ نہ چھپائے اور اپنے ناخن نہ تراشے اور شکار نہ کرے اور نہ زبان سے شکار کی طرف راہنمائی کرے اور نہ ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کرے۔
سوال : عمرہ کے لیے احرام کے مواقیت بیان کیجئے؟
جواب : آفاق کے لیے حج کے احرام کے مواقیت ہی عمرہ کے احرام کے مواقیت ہیں پس بہرحال حل میں رہنے والا تو وہ حل سے عمرہ کا احرام باندھے اور جو حرم میں رہتا ہے وہ عمرہ کے احرام کے لیے حل کی طرف نکلے۔
سوال : اسلام میں عمرہ کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ اس شخص کے لیے زندگی میں ایک مرتبہ سنت مؤکدہ ہے جو مکہ مکرمہ پہنچنے کی طاقت رکھے اور اس کی بڑی فضیلت ہے۔
سوال : عمرہ کے احرام میں تلبیہ کا حکم کیا ہے؟
جواب : تلبیہ احرام کے وقت شرط ہے اور اس کے بعد اس کی کثرت کرنا مستحب ہے اور وہ عمرہ کے طواف کے پہلے چکر کی ابتدا کے وقت تلبیہ بند کردے۔
سوال : کیا عمرہ کے لیے طواف قدوم اور طواف وداع مشروع ہیں؟
جواب : عمرہ میں طواف قدوم اور طواف وداع مشروع نہیں اور ہر طواف عمرہ بن کر واقع ہوتا ہے عمرہ کے احرام کے بعد وہ جو طواف کرے۔
سوال: کیا عمرہ کے لیے معین وقت ہے جیسا کہ حج میں معین وقت ہے؟
جواب: عمرہ کے لیے کوئی دن اور کوئی مہینہ متعین نہیں تمام سال میں جب چاہے عمرہ کرے مگر یہ کہ 9 ذولحجہ سے ایام تشریق کے آخر تک مکروہ تحریمی ہے اور رمضان شریف میں عمرہ کی زیادہ فضیلت ہے کہ کیوں کہ رمضان شریف میں عمرہ ثواب میں حج کی مانند ہے۔
سوال: کیا عمرہ حج کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے؟
جواب جی ہاں عمرہ کی ادا حج کے ساتھ صحیح ہے جیسا کہ آپ عنقریب قران اور تمتع کے بیان میں مطلع ہوں گے
ان شاء اللّه

No comments: