Rujoo ke masail jis me had lagai jati hy or jis me had nahi lagai jati
رُجوع کے مساٸل
سوال : اقرار کرنے والے نے اپنے اقرار سے رجوع کر لیاتو اسکے باوجود اس پر حد قاٸم کی جاۓ؟
جواب : اگر وہ اپنے اوپر حد قاٸم کرنے س پہلےیا(حد)کے درمیان میں رجوع کر لےتو اسکا رجوع قبول کر لیا جاۓ اور اس کو چھوڑدیاجاۓ۔
سوال : اگر رجم کے فیصلہ کے بعداس کو قاٸم کرنے سے پہلے گواہوں میں سے کوٸی رجوع کر لے(تو) اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : ان سب کو تہمت کی حد لگاٸی جاۓاور مشہود علیہ سے حد ساقط ہوجاۓگی اور اگر ان میں سے کوٸی ایک رجم کے بعد رجوع کر لے تو تنہا رجوع کرنے والے کو حد لگاٸی جاۓ اور حد کے ساتھ چوتھاٸی دیت کا بھی ضامن ہوگا۔
جس (وطی) میں حد لگائی جاتی ہے اور جس (وطی میں) حد نہیں لگائی جاتی
(۱)
جس نے کسی اجنبی خاتون سے شرمگاہ کے سوا میں وطی کی اسے سزا دی جائے اور اس پر حد نہیں ہے
(۲)
جس نے اپنے ولد یا اپنے ولد کے ولد کی باندی سے وطی کی تو اس پر حد نہیں ہے اگرچہ وہ کہے کہ "مجھے معلوم تھا وہ (خاتون) مجھ پر حرام ہے۔
(۳)
جب اپنے باپ یا اپنی ماں یا اپنی بیوی کی باندی سے وطی کرے اور کہے کہ "مجھے معلوم تھا وہ (خاتون) میرے لیے حلال ہے "تو اس پر حد نہیں ہے لیکن اگر کہے کہ "مجھے معلوم تھا وہ مجھ پر حرام ہے" تو اس پر حد لگائی جاۓ اسی طرح جب غلام اپنے آقا کی باندی سے وطی کرے اور کہے کہ "مجھے معلوم تھا وہ مجھ پر حرام ہے" تو اس پر حد لگائی جائے اور اگر کہی کہ "میرا خیال تھا وہ میرے لیے حلال ہے" تو اس پرحدنہ لگائی جائے
(۴)
اپنے بھائی یا اپنے چچےکی باندی سے وطی کی اور کہاکہ"میرا خیال تھا وہ مجھ پر حلال ہے"تواس پر حد لگائی جائے
(۵)
شب زفاف میں جس کے پاس اسکی بیوی کے سواکسی کو بھیج دیا گیا اور عورتوں نے کہا کہ یہ تمہاری بیوی ہے پس اس نے اس سے وطی کر لی تواس پرکوئی حد نہیں ہے اور اس کے ذمےمہرہے
(۶)
جس نے اپنے بچھونے پر کسی خاتون کو پایا پس اس سےوطی کرلی تواس پر حد ہے
(۷)
جس نےایسی خاتون سے شادی کر لی کہ اس کا نکاح حلال نہیں اسر اس سے وطی کرلی تواس پرحدواجب نہیں ہوئی
(۸)
جوکسی خاتون کےپاس پشت میں آیا یا قومِ لوطْ والا کام کیا تو حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر حد نہیں اور اسے سزا دی جائے اور (صاحبین) رحمہمااللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ یہ (عمل) زنا کی طرح ہے پس اس میں حد لگائی جائے
(۹)
جس نے چوپائے سےوطی کی تو اس پر حد نہیں ہے
(۱۰)
جس نے دارالحرب یا دارُالبَغی میں زنا کیا پھر ہماری طرف آگیا تو اس پر حد قائم نہ کی جائے

No comments: